قومی اسمبلی کے 5 سال

دنیا بھر میں ارکان پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہوتا ہے مگر ہمارے ارکان اسمبلی فنڈز لے کر ترقیاتی کام کراتے ہیں۔


Muhammad Saeed Arain February 03, 2013

موجودہ قومی اسمبلی کے ارکان کا ایکسپریس میں ایک بڑا گروپ فوٹو شایع ہوا ہے جس میں تقریباً دو سو ارکان، وزیر اعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر کے ہمراہ موجود ہیں، قومی اسمبلی کے اسپیکر چار سال ساڑھے دس ماہ تک اسپیکر شپ کے عہدے کی مدت مکمل کرچکی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی 5 سالہ مدت پوری کر رہی ہے جو شاید ان کے لیے بڑا ریکارڈ ہے مگر اس قومی اسمبلی نے عوام کے لیے کیا کیا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف عوام ہی دے سکتے ہیں۔

عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی اسمبلی 5 سال میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی، اپوزیشن ارکان بھی اس میں مکمل شریک رہے اور انھوں نے ہر بجٹ کے موقعے پر بجٹ پر کڑی تنقید کی اور ہر بجٹ کو عوام دشمن قرار دیا مگر ایوان میں رہ کر عوام کو کوئی ریلیف نہیں دلایا، ہر بجٹ کے موقعے پر لگتا تھا کہ اپوزیشن قومی اسمبلی میں بجٹ منظور نہیں ہونے دے گی مگر حکومت اپنا ہر بجٹ منظور کرا لینے میں کامیاب رہی اور کبھی بھی اپوزیشن بجٹ میں اپنی تجاویز کے ذریعے عوام کو کوئی رعایت یا ریلیف نہیں دلاسکی اور اس نے عوام کو دھوکا دینے کے لیے بجٹ منظوری کے وقت ایوان میں رہ کر رکاوٹ ڈالنے کے بجائے ایوان سے واک آؤٹ کرکے حکومت کو ہمیشہ اپنا بجٹ باآسانی منظور کرا لینے کا سنہری موقع دیا اور دکھاوے کی مخالفت کی۔ بجٹ میں عوام پر ٹیکس بڑھائے گئے اور عوام دشمن قرار دیے جانے والے ہر بجٹ کی منظوری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے بجٹ پاس ہونے کی خوشی میں دیے گئے ہر عشائیے میں حکومتی ارکان کے ساتھ اپوزیشن ارکان نہ صرف شریک ہوتے رہے بلکہ حکومتی ارکان کے ساتھ خوش نظر آئے۔

اپوزیشن ارکان نے تو قومی اسمبلی میں دکھاوے کی مخالفت کی مگر کسی ایک حکومتی رکن سے یہ بھی نہ ہوسکا اور حکومتی ارکان کی اکثریت بجٹ منظوری اور حکومتی اقدامات کی منظوری کے وقت خاموش تماشائی بنی رہی اور اکثریت نے کبھی عوام کے مفاد کے لیے کوئی تجویز تک نہیں دی وہ قومی اسمبلی کے ہر اجلاس میں حاضری لگا کر چلے جاتے یا مجبوری میں ایوان میں خاموش بیٹھتے اور عوام کے حق میں بھی ان کے منہ نہیں کھلے۔ارکان پارلیمنٹ کے الاؤنس اور مراعات بڑھانے کا جب بھی حکومت نے فیصلہ کیا سب ایک نظر آئے اور سب نے متفقہ طور پر اپنے مفاد کے لیے ہونے والے فیصلوں کی منظوری دی، پہلے ہر قومی بجٹ کے موقعے پر پٹرول کے نرخ قومی اسمبلی کی منظوری سے بڑھائے جاتے تھے مگر اب اوگرا یہ ذمے داری ادا کر رہا ہے اور اوگراکے فیصلوں کے خلاف ارکان قومی اسمبلی کبھی حرکت میں نہیں آئے۔

قومی اسمبلی کے اکثر اجلاسوں میں کورم کا مسئلہ رہا کیونکہ قومی اسمبلی کے ارکان حاضری لگانے اور مراعات کا حقدار بننے کے لیے اکثر اجلاس میں آئے مگر ان سے آرام دہ نشستوں پر اتنی دیر بھی بیٹھا نہیں جاتا جس مقصد کے لیے اجلاس بلایا جاتا ہے، حاضری لگانے کے بعد ارکان قومی اسمبلی اپنے کاموں کے لیے پارلیمنٹ کی عمارت میں وزیروں کے اطراف زیادہ نظر آئے اور انھوں نے وزیروں کو بھی ایوان میں جانے نہیں دیا اور اپنے کاموں کے لیے انھوں نے وزیروں کو اپنے علاقوں میں مدعو کرنے پر توجہ دی اور اپنے کام نکلوا لیے۔

راقم خود اس بات کا گواہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسلام آباد آنے والے ارکان اسمبلی کی اکثریت ایوان میں بیٹھنے کے بجائے وفاقی وزراء کے دفاتر میں اپنے کاموں کے لیے چکر لگاتی ہے اور وزیروں کے پاس گھنٹوں بیٹھے رہنے کے دوران انھیں احساس نہیں رہتا کہ عام لوگ بھی وزیر سے ملنے آئے ہوئے ہیں، وزیر موصوف بھی اپنے پاس گھنٹوں بیٹھ کر ان کا وقت ضایع کرنے والوں کو جانے کے لیے نہیں کہہ سکتے کہ کہیں ان کا استحقاق مجروح نہ ہوجائے۔

پارلیمنٹ میں یہ شکایت ہمیشہ رہی ہے کہ متعلقہ وزراء ایوان میں نہیں آتے جب کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان وزیروں کے پاس بیٹھے ارکان اسمبلی نہ خود اٹھتے ہیں نہ وزیر کو اٹھنے دیتے ہیں اور ایوان میں گھنٹیاں بج بج کر خاموش ہوجاتی ہیں اور کورم پورا نہیں ہوتا۔

ایوان میں دوران اجلاس ارکان کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور اکثر کورم کا مسئلہ در پیش رہتا ہے، اور اجلاس مقررہ کورم نہ ہونے کے باوجود جاری رہتے ہیں اور اپوزیشن کی نشاندہی پر ہی اجلاس ملتوی کرنا پڑتا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں ہر دور حکومت میں اکثریت ان ارکان کی ہوتی ہے جنھیں اجلاس میں خاموش بیٹھے رہنا ہوتا ہے اور ان کا کام حکومتی ہدایت پر سرکاری فیصلوں کی حمایت اور تالیاں بجانا رہا ہے اور وہ کسی بھی مسئلے پر خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اپوزیشن ارکان اپنے لیڈر کی ہدایت پر ایوان میں رہ کر شور شرابہ زیادہ اور عوام کے مفاد کی باتیں کم ہی کرتے ہیں اور ہر حکومتی اقدام کی مخالفت دکھانے کے لیے اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف نے ارکان اسمبلی کے سالانہ فنڈ بند کردیے تھے اور انھیں بلدیاتی کاموں سے روک دیا تھا کیونکہ دنیا بھر میں ارکان پارلیمنٹ کا کام قانون سازی ہوتا ہے مگر ہمارے ارکان اسمبلی ہر دور میں اپنے علاقوں کے لیے سالانہ فنڈ لے کر وہ کام کراتے ہیں جو بلدیاتی اداروں کے کرانے کے ہوتے ہیں، موجودہ ارکان اسمبلی اپنی مدت تو پوری کر رہے ہیں مگران کے ریکارڈ میں ایسے کام بہت ہی کم ہیں جن سے عوام کو فائدہ پہنچایا گیا ہو۔

مقبول خبریں