شولڈرپروموشن پانیوالے افسران کی فہرست طلب

سندھ پولیس میں رائج طریقہ کار پر برہمی،غلط بیانی پر کارروائی کی جاسکتی ہے ، سپریم کورٹ


Staff Reporter February 05, 2013
سول سرونٹس ایکٹ کے تحت خلاف ضابطہ ترقی پانیوالے افسران کو تحفظ حاصل ہے،اے اے جی فوٹو: ایکسپریس/فائل

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس سرمد جلال عثمانی اورجسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل بینچ نے سندھ پولیس میں رائج طریقہ کار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے شولڈرپروموشن پانے والے افسران کی فہرست طلب کرلی ہے۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ اس ضمن میں آئی جی سندھ کے دستخط کے ساتھ تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے،غلط بیانی پر اعلیٰ افسران کارروائی کیلیے تیار رہیں۔ فاضل بینچ نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ حکومت نے سروس اسٹرکچر کو تباہ کردیا ہے، سفارش کلچرعام ہے ، من پسند انسپکٹرکوسفارش پر ایس ایس پی بنادیا جاتا ہے،اگر یہی کرنا ہے تو ہر پولیس اہلکار کو ایڈیشنل آئی جی اور ڈی آئی جی بنا دیں۔فاضل بینچ نے پیر کو ڈی ایس پی ممتاز سومرو کی ترقی کے خلاف حکومت سندھ کی درخواست کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے مقدمے کو خلاف ضابطہ ترقیوں کے دیگر مقدمات کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سرورمحمد خان نے عدالت کو بتایا کہ ترقیوں کا جائزہ لینے کیلیے عدالت کے حکم پرمحکمہ پولیس کی قائم کردہ کمیٹی نے انسپکٹر ممتاز سومرو کی ترقی کی سفارش نہیں کی جس پر ممتاز سومرو نے سروسز ٹریبونل سے رجوع کیا ،سروسز ٹریبونل کے حکم پر ممتاز سومرو کوڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

جسٹس امیر ہانی مسلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت نے سروس اسٹرکچر تباہ کردیا ہے،اداروں میں تباہی مچادی گئی ہے،ایک انسپکٹر کو ایس ایس پی بنادیا جاتا ہے،انھوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کراچی جنوبی کے ایس ایس پی کاعہدہ انتہائی اہم ہوتا ہے مگر یہاں بھی ایک انسپکٹر کو خلاف ضابطہ ترقی دیگر کر تعینات کردیا گیا تھا بعد ازاں اس افسر کو ایس پی ٹھٹہ تعینات کردیا گیا۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ سندھ سول سرونٹس ایکٹ کے سیکشن 9-Aکے تحت خلاف ضابطہ ترقی پانے والے افسران کو تحفظ حاصل ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حکومت نے خود تباہی پھیری ہوئی ہے۔

عدالت کے استفسار پر اے آئی جی (لیگل)علی شیرجکھرانی نے بتایا کہ عدالت کے حکم پر محکمہ پولیس میں خلاف ضابطہ ترقی پانے والے 5ہزارسے زائد افسران کی تنزلی کردی گئی ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ ممتاز سومروان افسران میں شامل ہیں یا نہیں ، جس پراے آئی جی نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آرڈیننس کا سہارا لے کر جھوٹ بولاجارہا ہے،آئی جی کی منظوری کے بغیر پولیس افسر کی ترقی کیسے ہوسکتی ہے، عدالت نے ہدایت کی کہ آئی جی سندھ خلاف ضابطہ ترقیوں اور شولڈرپروموشن کے حوالے سے وضاحت کریں ، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ شولڈر پروموشن پانے والے افسران کی فہرست آئی جی کے دستخط کے ساتھ پیش کی جائے،اگر عدالت کے ساتھ غلط بیانی کی گئی تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ476کے تحت کارروائی کی جائے گی۔