لاہور ہائیکورٹ نے خلع، حق مہر، جہیز اور گھر کی ملکیت سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے بیوی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے 11 تولے سونا یا اس کی قیمت شوہر کو واپس کرنے کا حکم ختم کر دیا۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے ڈاکٹر رخسانہ کوثر اور شاہد نذیر کے تنازع کا فیصلہ سنایا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق خلع کے عوض شوہر صرف وہی حق مہر واپس لینے کا حقدار ہے جو اس نے خود ادا کیا ہو، حق مہر میں دیا گیا سونا شوہر نے خود نہیں خریدا تو واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا، 11 تولے سونا خریدنے کے لیے رقم بیوی کے والد نے فراہم کی جبکہ شوہر 11 تولے سونا خریدنے کے لیے اپنی جانب سے رقم ادا کرنا ثابت نہ کرسکا۔
فیصلے کے مطابق محض نکاح نامے میں حق مہر درج ہونے سے شوہر سونا واپس لینے کا حقدار نہیں ہو سکتا، شوہر کی جانب سے حق مہر کی ادائیگی ثابت نہ ہو تو بیوی کو سونا واپس کرنے کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ خلع کی صورت میں حق مہر کی واپسی کا اصول اسی وقت لاگو ہوگا جب شوہر کی ادائیگی ثابت ہو۔
عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ بیوی کے والد نے 11 تولے سونا خریدنے کے لیے رقم فراہم کی جو شواہد سے ثابت ہوا، تاہم شوہر اپنی جانب سے سونا خریدنے کے لیے رقم ادا کرنے کا قابل اعتماد ثبوت پیش نہ کرسکا۔
فیصلے کے مطابق نابالغ بچے کا نان نفقہ والد کی قانونی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے۔ والد آمدن کم ظاہر کرکے نابالغ بچے کے نان نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا، شوہر نے اپنی مالی حیثیت سے متعلق متضاد مؤقف اختیار کیا، شوہر نے گھر اور سونا خریدنے کی استطاعت ظاہر کی لیکن بچے کے نان نفقہ میں آمدن کم ظاہر کی۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ بیوی کے نام گھر کی خریداری کے لیے رقم بھی اس کے والد نے فراہم کی، بینک ریکارڈ اور گواہوں کی شہادت سے گھر کی رقم والد کی جانب سے ادا ہونا ثابت ہوا۔ شوہر اپنے وسائل سے گھر خریدنے کے دعوے کے حق میں قابل اعتماد دستاویز پیش نہ کرسکا، عدالت
فیصلے کے مطابق بیوی کا گھر اپنے والد کے نام تمليك کرنا قانونی اقدام تھا، گھر میں رہائش پذیر قانونی مالک کے لیے ہر صورت ظاہری قبضہ منتقل کرنا ضروری نہیں۔ عدالتی فیصلے کے مطابق زچگی کے 63 ہزار روپے اخراجات کی واپسی کا دعویٰ بھی ثابت نہ ہوسکا۔
لاہور ہائیکورٹ نے شوہر کا گھر کا قبضہ والد کو منتقل نہ ہونے کا اعتراض مسترد کیا جبکہ 22 تولے زیورات کی واپسی کا دعویٰ ثابت نہ ہونے پر مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت نے فیصلے کے دیگر حصے برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی دیگر درخواستیں مسترد کر دیں۔