تمام جج ہم خیال ہوجائیں توکچھ غلط ہے عاصمہ جہانگیر

ہر بندہ چاہتا ہے تاحیات بیٹھا رہوں، جو بھی نگراں وزیر اعظم آئے اپنا کام کرے اور چلتا بنے


INP February 05, 2013
ہر بندہ چاہتا ہے تاحیات بیٹھا رہوں، جو بھی نگراں وزیر اعظم آئے اپنا کام کرے اور چلتا بنے فوٹو: فائل

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ہر جج کو اپنے ذہن سے سوچنا چاہیے۔

ہر وقت سار ے ججوں کا ایک جیسا ہی سوچنے کا مطلب ہے کہ کچھ غلط ہے'اگر الیکشن نہ ہوئے یا اس میں گند ہوا تو بہت تباہی آئے گی اور یہ ملک سنبھالا نہیں جائے گا'ایکسٹینشن کی بھی بڑی سیاست ہے ،ہر بندہ چاہتا ہے کہ تاحیات بیٹھا رہوں' نگراں وزیر اعظم کے لیے میری صدر زرداری ، وزیر اعظم یا نواز شریف کسی سے بات نہیں ہوئی' جو بھی نگراں وزیر اعظم آئے وہ اپنا کام کرے اور چلتا بنے'الیکشن وقت پر اور شفاف ہونے چاہییں ۔

پیر کوجنیوا سے واپسی پر انٹر ویو میں عاصمہ جہا نگیر نے کہا کہ میںن لیگ اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتی رہی ہوں نگراں وزیراعظم کیلیے نام پیش کرنے پرپیپلز پارٹی اور ن لیگ کی شکر گزار ہوں لیکن اس حوالے سے میری صدر زرداری ، وزیر اعظم یا نواز شریف کسی سے بات نہیں ہوئی ،میں نے خود انھیں دو تین نام پیش کیے تھے ،مجھے خوشی اس بات پر ہوئی کہ ایک خاتون کا نام دیا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ عدلیہ آتی ہے اور چلی جاتی ہے ،بڑے بڑے ببر شیر ہم نے دیکھے کہ جب گھر گئے تو کسی نے نہیں پوچھا مگر ان کے فیصلوں کی زد میں لوگ آتے ہیں۔عدلیہ تحریک کے بعد بہت مایوسی ہوئی۔