کئی علاقوں میں فراہم پانی پینے کے قابل ہی نہیں انسداد نگلیریا کمیٹی کا انکشاف

نگلیریا سے جاں بحق ہونے والے افرادکے گھر سے پانی کے نمونے حاصل کرلیے، پانی کے نمونوں میں کلورین شامل ہی نہیں


Staff Reporter July 07, 2017
پانی کے ٹینکوں میں کلورین ٹیبلیٹ ڈالیں یا 120گزکے مکان میں موجود پانی کے ٹینک میں 2چمچے بلیچ ڈال دیں،ڈاکٹرظفر مہدی۔ فوٹو : فائل

صوبائی محکمہ صحت کی انسداد نگلیریا کمیٹی نے نگلیریا سے جاں بحق ہونے والے افرادکے گھر سے پانی کے نمونے حاصل کرلیے۔

گزشتہ روز کمیٹی کے ارکان گلبرگ اورکے ڈی اے اسکیم ون گئے جہاں نگلیریاکے مرض سے جاں بحق ہونے والوں کے گھروں سے پانی کے نمونے لے کرکیمیائی تجزیے کیے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ پانی میں کلورین کی مقدارشامل ہی نہیں جبکہ حاصل کیے جانے پانی میں دیگر خطرناک امراض کے جراثیم کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے جس سے ڈائریا، متلی، آنکھوں کاانفیکشن اورجلدی امراض بھی پھیل سکتے ہیں۔

محکمہ صحت کی انسداد نگلیریا کمیٹی نے جمعرات کو اپنی تحریری رپورٹ میں بتایا کہ پانی کے نمونوں کے مطابق پانی پینے کے قابل نہیں، رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ گلبرک اورکے ڈی اے اسکیم ون میں فراہم کیے جانے والا پانی نگلیریا سمیت دیگر جان لیوا جراثیم کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا، بعض علاقوں میں فراہم کیے جانے والے پانی میں سیوریج کا پانی بھی شامل ہے،اس بات کا انکشاف پانی کے کیمیائی تجزیے کے دوران ہوا۔

انسداد نگلیریا کمیٹی کے فوکل پرسن ڈاکٹر ظفر مہدی نے ایکسپریس کو بتایا کہ حاصل کیے گئے پانی کے نمونے کے مطابق پانی پینے کے قابل بھی نہیں ہے،پانی کی لائِنوںکوسیوریج کی لائنوں سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔


ڈاکٹر ظفرمہدی کا کہنا تھا کہ نگلیریاکا جرثومہ گرمی میں اپنی نشوونماکرتا ہے اس کا جرثومہ پانی کے ٹینکوں میں جنم لیتا ہے جب کراچی میں درجہ حرارت میں اضافہ اور پانی میں کلورین کی کمی ہوجائے تو یقیناً نگلیریا کے جرثومے پانی میں اپنی نشوونما کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نمازمیں وضو کیلیے ابالا ہوا پانی ناک میں استعمال کریں کیونکہ نگلیریا کا جرثومہ ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہوتا ہے اور دماغ چٹ کرجاتا ہے۔

کمیٹی کے فوکل پرسن نے عوام سے بھی درخواست کی کہ وہ گھروں میں پانی کے ٹینکوں میں کلورین ٹیبلیٹ ڈالیں یا 120گز کے مکان میں موجود پانی کے ٹینک میں 2چمچے بلیچ ڈال دیں اس سے نگلیریا کا جرثومہ پانی کے ٹینک میں اپنی نشوونما نہیں کریگا، گھروں میں استعمال کیے جانے والے پانی کو 100ڈگری پرابالیں تاکہ آلودہ پانی میں شامل دیگر بیکٹریا کا مکمل اور یقینی خاتمہ ہوسکے۔

واضح رہے کہ نگلیریا کا مرض گرمی کے موسم میں سر اٹھاتا ہے، نگلیریا کے جرثومے کا موسم اگست تک ہوتا ہے لیکن پانی کے ٹینکوں میںکلورین لازمی ڈالیں اور ٹینکوںکی صفائی کا بھی خیال رکھیں۔