واٹر بورڈ غیر قانونی ترقیاں لینے والوں کی تنزلی کی جائےمحسن رضا

کمیٹی سربراہ وافسران نے اگلے گریڈ میں ترقی کرالی،مزدوروں کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں.


Staff Reporter February 06, 2013
کمیٹی سربراہ وافسران نے اگلے گریڈ میں ترقی کرالی، مزدوروں کی تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں. فوٹو: فائل

پیپلز لیبر یونین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے ادارے میں اعلیٰ افسران کی ترقیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اعلیٰ افسران کی ترقیوں کا نوٹس لیں اور تحقیقات کراکر غیرقانونی ترقیاں حاصل کرنے والے افسران کی تنزلی کروائیں۔

پیپلزلیبر یونین کے جنرل سیکریٹری محسن رضا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ادارے میں ترقیاں دو مراحل میں مکمل ہوئیں جن میں گریڈ 16 سے 20 تک اور گریڈ ایک سے 14 تک کی منظوری دی گئی سینارٹی لسٹوں کی تکمیل سے قبل اور ایم ڈی کی بنائی گئی او آر سی اعتراض دور کرنے والی کمیٹی جو ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر ٹیکنکل سروس علی محمد پلیجو کی سربراہی میں بنائی گئی تھی کی رپورٹ کی اشاعت سے قبل ہی ترقی کے خطوط سنیارٹی کو مسخ کر کے جاری کر دیے گئے ہیں ،محسن رضا نے مزید کہا کہ ڈی ایم ڈی ٹیکینکل سروس کے دور میں کئی گھپلوں اور غلط معاملات کے باوجود ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ پر رکھ لیا گیا۔

2

موصوف گذشتہ تاریخوں میں سائن کرکے غیر قانونی ترقیوں کے خطوط جاری کروا رہے ہیں، انھوں نے خط کے ذریعے چیئرمین واٹر بورڈ حاجی منور علی عباسی و چیف سیکریٹری سندھ، ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن و سیکریٹری بلدیات سے اپیل کی ہے کہ ایک اعلٰی سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے کیونکہ واٹر بورڈ میں گریڈ 19 کے افسران نے شفاف ترقیوں کے نام پر کمیٹی کے سربراہ سمیت کمیٹی ممبران نے اپنی ترقی گریڈ20 میں کر کے اپنی تنخواہیں بھی وصول کر لی ہیں جب کہ مزدوروں کی تنخواہوں کی فکسیشن روک دی گئی ہے۔