پاکستانی دنیا میں سب سے کم پیدل چلنے والی اقوام میں شامل

چین (بشمول ہانگ کانگ) کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ پیدل چلتے ہیں


ویب ڈیسک July 14, 2017
جن ملکوں میں لوگ زیادہ پیدل چلتے ہیں وہاں موٹاپے اور دوسری متعلقہ بیماریوں کی شدت بھی کم دیکھی گئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

لاہور: اسٹینفرڈ یونیورسٹی میں کیے گئے ایک دلچسپ عالمی مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ چین (بشمول ہانگ کانگ) کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ پیدل چلتے ہیں جبکہ امریکا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقِ وسطی کے امیر ممالک میں لوگ عام طور پر بہت کم پیدل چلتے ہیں۔

یہ مطالعہ 111 ممالک میں 7 لاکھ 17ہزار سے زائد افراد پر کیا گیا جن کے اسمارٹ فونز پر ازومیو کمپنی کی تیار کردہ ''آرگس'' ایپ انسٹال تھی۔ یہ ایپ اپنے استعمال کرنے والوں کی دھڑکنوں کے علاوہ ان کے قدم بھی گنتی ہے اور یوں ان میں چلنے پھرنے، بھاگنے دوڑنے یا پھر بیٹھے رہنے وغیرہ کے علاوہ صحت سے متعلق دوسری سرگرمیوں پر بھی خود کار انداز میں نظر رکھتی ہے۔ ازومیو کمپنی سے آرگس کے صارفین کا ایک سال پر محیط ڈیٹا حاصل کیا گیا جس میں ان کی عمر، جنس (مرد یا عورت)، ملک، قد، وزن، روزانہ چلے گئے قدموں کی تعداد اور اسی طرح کے دیگر اعداد و شمار شامل تھے۔

تجزیئے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ممالک جہاں پیدل چلنے کا رجحان زیادہ ہے وہاں موٹاپا اور اس سے وابستہ بیماریاں بھی بہت کم ہیں۔ ان میں چین (بشمول ہانگ کانگ)، یوکرین، جاپان اور روس کے لوگ سب سے زیادہ پیدل چلتے ہیں اور اسی مناسبت سے وہاں موٹاپا بھی بہت کم ہے۔ اس کے برعکس جنوبی افریقا، انڈونیشیا اور بیشتر عرب ممالک کے لوگ بہت کم پیدل چلنے کے عادی ہیں جہاں عام لوگوں میں موٹاپے کا رجحان بھی نمایاں ہے۔

چین کے لوگ روزانہ اوسطاً 6189 قدم چلتے ہیں جبکہ یوکرین، جاپان اور روس کے لوگوں کے لیے یہی اوسط بالترتیب 6107، 6010 اور 5969 قدم روزانہ ہے۔ فہرست کے مخالف سرے پر انڈونیشیا موجود ہے جہاں روزانہ صرف 3513 قدم پیدل چلنے کا اوسط ہے جس کے بعد سعودی عرب 3807 قدم روزانہ کے ساتھ (آخر سے) دوسرے نمبر پر ہے۔



صنفی بنیادوں پر اعداد و شمار کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ خواتین میں مردوں کی نسبت پیدل چلنے کا رجحان تقریباً نصف یا اس سے بھی کم ہوتا ہے اور اسی بنا پر وہ امراضِ قلب سمیت بہت سی دوسری بیماریوں میں مردوں کی نسبت زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔

رپورٹ مرتب کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ پیدل چلنے کی عادت پہلے ہی صحت کے لیے مفید قرار دی جاتی ہے اور اس افادیت کو ان کے مطالعے نے اور بھی واضح طور پر ثابت کردیا ہے؛ اور یہ کہ اب پیدل نہ چلنے کےلیے عذر پیش کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ ریسرچ جرنل ''نیچر'' کے تازہ شمارے میں گزشتہ روز شائع شدہ اس تحقیق کے تفصیلی اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کے لوگ دنیا میں کاہل ترین ہیں جو روزانہ اوسطاً 3414 قدم چلتے ہیں لیکن یوں لگتا ہے کہ شاید پاکستان میں آرگس ایپ استعمال کرنے والے بہت ہی کم لوگ ہیں اور افراد کی اتنی کم تعداد کو بنیاد بناتے ہوئے رپورٹ میں پاکستان کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔