ارکان اسمبلی کو ترقیاتی منصوبوں کیلیے 5ارب 75کروڑ ملے شہروں میں اثرات نظر نہیں آرہے

اراکین اسمبلی نے زیادہ تر اسکیمیں اپنے علاقوں میں سیوریج، سڑکوں اور فراہمی ونکاسی آب کے حوالے سے تیار کیں، ذرائع


Staff Reporter February 07, 2013
خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود منصوبوں کے اثرات نظر نہیں آرہے،ترقیاتی کاموں کی نگرانی کا موثر نظام موجود نہیں۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

ISLAMABAD: حکومت کی طرف سے کراچی کے اراکین سندھ اسمبلی کو5سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کیلیے5ارب75 کروڑ روپے کی رقم فراہم کی گئی تاہم اس خطیر رقم کو خرچ کیے جانے کے باوجود شہر میں اس کے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے اراکین سندھ اسمبلی کو اپنے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کیلیے ہر سال رقم فراہم کی،ہر رکن کا صوابدیدی اختیار تھا کہ وہ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق متعلقہ محکمے سے منصوبہ تیار کرکے اس پر اپنی نگرانی میں عمل کرائے، ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں صرف کراچی کے اراکین سندھ اسمبلی کو پہلے سال554ملین روپے، دوسرے سال584ملین روپے، تیسرے سال1690ملین روپے، چوتھے سال1690 ملین روپے جبکہ پانچویں سال1214ملین روپے فراہم کیے گئے جو کہ مجموعی طور پر5ارب75کروڑ روپے کی رقم بنتی ہے۔

1

ذرائع نے بتایا کہ یہ رقم وہ ہے کہ صرف ارکان سندھ اسمبلی کو فراہم کی گئی جبکہ اراکین قومی اسمبلی کو فراہم کی جانے والی رقم اس کے علاوہ ہے جو کہ اربوں روپے میں بنتی ہے، ذرائع نے بتایا کہ اراکین اسمبلی نے زیادہ تر اسکیمیں اپنے علاقوں میں سیوریج، سڑکوں اور فراہمی ونکاسی آب کے حوالے سے تیار کی تھیں، ذرائع نے بتایا کہ اتنی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود کراچی میں ان منصوبوں کے اثرات نظر نہیں آرہے ہیں،ذرائع نے بتایا کہ اراکین اسمبلی کے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کا کوئی موثر نظام بھی موجود نہیں۔