اے ڈی بی کا ٹیکس انتظامیہ سروے پاکستان سے ڈیٹا مانگ لیا

آئی ایم ایف اور اوای سی ڈی کا تیار کردہ سروے فارم پاکستان کوبھجوادیا،ایف بی آر کو لیٹر


Irshad Ansari July 20, 2017
دیگررکن ملکوں کوبھی بھیجاگیا،حاصل معلومات سے 30ملکی رپورٹ تیار،بین الاقوامی ڈیٹا بیس قائم، ممبرز کو رسائی حاصل ہوگی،دستاویز ۔ فوٹو: فائل

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی ٹیکس ایڈمنسٹریشن کے بارے میں بین الاقوامی سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی (او ای سی ڈی) سمیت علاقائی ٹیکس باڈیزکے ٹیکس حکام و ماہرین کی جانب سے تیار کردہ سروے فارم پاکستان کو بھجوادیا گیا ہے اور پاکستان سمیت تمام ممبر ممالک کو سروے فارم کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر قائم ہونے والے بین الاقوامی ڈیٹا بیس تک رسائی حاصل ہوگی۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو بین الاقوامی سروے برائے ریونیو ایڈمنسٹریشن (آئی ایس او آر اے) فارم بھجوا دیا ہے اور اس بارے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے کہا گیا ہے کہ مذکورہ فارم مکمل کرکے 28 جولائی2017 تک واپس بھجوایا جائے کیونکہ اس سروے فارم کی بنیاد پر اے ڈی بی 30 ممالک کی معیشت کے حوالے سے ٹیکس ایڈمنسٹریشن سے متعلق مسابقتی موازنے کی تیسری سیریز کو مکمل کرے گا اور ایشیا و پیسفک ریجن کے ممبر ممالک کے بارے میں ٹیکس ایڈمنسٹریشن سے متعلق زیادہ مضبوط و امیر ممالک کی فہرست کے بارے میں اہم معلومات کو شامل کیا جائے گا۔ دستاویز میں بتایا گیاکہ سروے فارم آئی ایم ایف، او ای سی ڈی ودیگر علاقائی ٹیکس باڈیزکے حکام و ماہرین نے تیار کیا ہے۔

جس کا مقصد ٹیکس ڈیٹا کے حصول کو بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنانا ہے کیونکہ اس ڈیٹا کو بین الاقوامی ڈیٹا بیس کے ساتھ شیئرکیا جانا ہے، مذکورہ سروے میں شامل تمام ممبر ممالک اور ان کی ٹیکس اتھارٹیز نے او ای سی ڈی معاہدے کے تحت آپس میں ڈیٹا شیئرنگ و معلومات کا تبادلہ کرنا ہے اور تمام ممبر ممالک کو متعلقہ ممبر ممالک کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی جس کے باعث انفرادی طور پر ملکوں کی جانب سے بین الاقوامی اور علاقائی ٹیکس اتھارٹیز سے ڈیٹا مانگنے کے رجحان میں کمی ہوگی کیونکہ انٹرنیشنل ڈیٹا بیس میں تمام ڈیٹا موجود ہوگا۔ دستاویز کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے پاکستان کو لکھے جانے والے 2 صفحات پر مشتمل لیٹر میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن کے بارے میں بین الاقوامی سروے کے لیے ممبر ممالک کو بھجوایا جانے والا سروے فارم صاف و شفاف اور طویل ہے تاہم اس میں زیادہ تر معلومات اور سوالات کے جوابات ہاں اور ناں میں دینا ہیں۔

اس لیے یہ زیادہ مشکل و پیچیدہ نہیں،ایشیائی ترقیاتی بینک کو سروے سے حاصل ڈیٹا سے تمام ممبر ممالک کے ٹیکس ایڈمنسٹریشن سسٹم کے آپریشنز کو سمجھنے میں مدد ملے گی اورممبرزکو تکنیکی معاونت کی فراہمی کے لیے بھی یہ معلومات و ڈیٹا مدد گارثابت ہوگا۔ لیٹر میںکہاگیا کہ سروے میں پاکستانی ٹیکس اتھارٹی کی شمولیت سروے کے مصدقہ اور درستی کے حوالے سے اہم کردار ادا کرے گی ، بینک سروے کی بنیاد پرٹیکس ایڈمنسٹریشن سے متعلق مسابقتی موازنہ کی تیسری سیریز پر مشتمل رپورٹ کو حتمی شکل دینے سے پہلے ڈرافٹ پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا اور حتمی آرا و تجاویز کے بعد رپورٹ کو حتمی شکل دے کر جاری کیا جائے گا۔