سماج کے کمزور لوگوں کے تحفظ کیلیے صحافی کردار اداکریں

انٹرمیڈیا اور عالمی ادارہ محنت کے تحت تربیتی ورکشاپ سے عمران شیروانی کا خطاب


Staff Reporter February 08, 2013
انٹرمیڈیا اور عالمی ادارہ محنت کے تحت تربیتی ورکشاپ سے عمران شیروانی کا خطاب ، فوٹو: فائل

معاشرے میں سماجی انصاف کے قیام اور انسانی حقوق بالخصوص عدم تحفظ واحساس محرومی کی شکار خواتین اور دیگر طبقوں کے مسائل کو اجاگر کرنا میڈیا کی ذمے داری ہے۔

ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی عمران شیروانی نے مقامی ہوٹل میں صنفی امتیاز اور محنت کے مسائل کی رپورٹنگ کیلیے صحافیوں کی 3 روزہ تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز خطاب میںکیا، تربیتی ورکشاپ کا اہتمام انٹرمیڈیا پاکستان اور عالمی ادارہ محنت کے اشتراک سے کیا گیا، ورکشاپ میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں نے شرکت کی، عمران شیروانی نے کہا کہ سماج کے کمزور ترین لوگوں باالخصوص خواتین ورکنگ و نان ورکنگ کلاس کے تحفظ کیلیے صحافیوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جس کیلیے ان کی اپنی تربیت بھی لازمی ہے۔

1

انھوں نے صنفی عدم مساوات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک برتا جاتا ہے،مرد حضرات ایک وقت میں ایک ہی جاب کرتے ہیں جبکہ خواتین بیک وقت کئی کام انجام دیتی ہے، پروفیشن میں ترقی میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے، صنف کی وجہ سے ترقی وتنزلی کا معیار اب ختم ہونا چاہیے، معاشرے میں خواتین کا کردار تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔

وہ اپنی محنت وکاوشوں سے ترقی کی منازل طے کررہی ہیں اور مردوں کو چاہیے کہ حقیقت سے سمجھوتہ کرتے ہوئے مساوی معاشرہ قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں، انٹرمیڈیا آف پاکستان کے پروجیکٹ ڈائریکٹر وجیہہ اختر نے بتایا کہ صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ ملک کے35 اضلاع میں اکتوبر 2012 سے جاری ہے اور مئی 2013 میں ایک ہزار صحافیوں کی تربیت صنفی امتیاز اور محنت سے متعلق مسائل پر مکمل کرلی جائیگی۔