عدالت کا کنٹریکٹر کو 9کروڑ روپے ادائیگی کا حکم عدم ادائیگی پر رقم قرق کرلی جائیگی

رقم نہ ملی تو عنقریب نگراں حکومت بھی ادائیگی نہیں کر پائے گی،درخواست گزار


Staff Reporter February 08, 2013
رقم کی ادائیگی کیلیے اقدام کررہے ہیں،محمد ارشد، سیلاب متاثرین کو امداد پہنچانے والے کنٹریکٹر کی رقم ادائیگی کیلیے دائر درخواست پر حکم۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سیلاب متاثرین کو امدادی اشیا فراہم کرنے والے کنٹریکٹرز کو9 کروڑ روپے سے زائدرقم 15دن میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ 15دن میں رقم کی ادائیگی نہ ہوئی تو رقم حکومت سندھ کے اکائونٹ سے قرق کرلی جائے گی، عدالت نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ وہ ذاتی طور پروزیراعلیٰ سے رابطہ کریں اور معاملہ حل کرائیں، جمعرات کو سماعت کے موقع پر محکمہ خزانہ کے سیکشن افسر محمد ارشد و دیگر نے پیش ہوکر عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کو رقم کی ادائیگی کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں، عدالت نے آبزروکیا کہ فاضل عدالت نے متعلقہ حکام کو تین مختلف تاریخوں میں حکم پر عملدرآمد کا کہا۔

عدالت نے سیکریٹری خزانہ کو ان کی ذمے داریوں کی جانب توجہ دلائی ، عدالت کو بتایا گیا کہ سمری وزیراعلیٰ کو ارسال کردی گئی تھی، عدالت نے تنبیہ کی تھی کہ درخواست گزاروں کو واجب الادا رقم ادا نہ کی گئی تو رقم قرق کرنے کا بھی حکم دیا جاسکتا ہے،جمعرات کو سماعت کے موقع پر درخواست گزاروں کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ اگر درخواست گزاروں کی رقم نہ ملی تو عنقریب نگراں حکومت بھی ادائیگی نہیں کر پائے گی۔

 

3

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میران محمد شاہ نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں ایک اور موقع دیا جائے وہ ذاتی طور پر وزیراعلیٰ سے رابطہ کریں گے، عدالت نے حتمی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک ادائیگی نہ ہوئی تو سندھ حکومت کے اکائونٹ سے رقم قرق کرلی جائے گی۔

2010میں سندھ کے علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے متاثرین کو خوراک اور مدادی اشیا پہنچانے کیلیے حکومت سندھ اور شہری حکومت نے درخواست گزاروں کی خدمات حاصل کیں، درخواست گزاروں کے9 کروڑ 13 لاکھ روپے واجب الادا ہیں مگر حکام ادائیگی سے گریز کررہے ہیں جبکہ بعض دوسرے افراد کو ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔