جناح اسپتال سے ایک ماہ قبل اغوا کی گئی لڑکی کا سراغ نہ مل سکا

10سالہ عائشہ اسپتال کے کینٹین میں پانی بھرنے گئی تھی،واپس نہیں آئی، مقدمہ درج کرلیا گیا،اہلخانہ کا پریس کلب پر مظاہرہ


Staff Reporter February 08, 2013
جناح اسپتال سے لاپتہ بچی کی بازیابی کے لیے اہل خانہ پریس کلب کے سامنے روتے ہوئے مظاہرہ کر رہے ہیں،چھوٹی تصویر عائشہ کی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

KARACHI: جناح اسپتال سے ایک ماہ قبل اغوا کی جانے والی نوعمر لڑکی کا پولیس سراغ لگانے میں ناکام رہی۔

مغویہ کے اہلخانہ نے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے بچی کی بازیابی کا مطالبہ کیاہے، تفصیلات کے مطابق حسن اسکوائر میکاسا اپارٹمنٹ کے رہائشی فدا اکرم نے بتایا کہ اس کی اہلیہ اور بیٹی 10 سالہ عائشہ گزشتہ ماہ جناح اسپتال علاج کی غرض سے گئی تھی جہاں اس کی بیٹی عائشہ جناح اسپتال کی کینٹین سے پانی بھرنے گئی تھی جو واپس نہیں پلٹی جس پر اس کی والدہ نے اسے کافی تلاش کیا تاہم وہ نہیں مل سکی اور بعدازاں بیٹی کی گمشدگی کا مقدمہ صدر تھانے میں درج کرا دیا ، مغویہ کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو اغوا ہوئے ایک ماہ کے قریب ہوگیا اور پولیس تاحال اس کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

 

6

انھوں نے بتایا کہ پولیس نے شک کی بنا پر 2 مرد اور 2 خواتین کو حراست میں لیا تھا تاہم پولیس ان کے بارے میں کچھ بتانے سے قاصر ہے ، مغویہ کے والد نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کو فوری بازیاب کرایا جائے ، عائشہ کے اغوا اور ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف اہلخانہ اور اہل محلہ کی بڑی تعداد نے پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا اس موقع پر انھوں نے مغویہ کی تصویر اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے ، اس موقع پر مغویہ عائشہ کی والدہ رو رو کر شدت غم سے نڈھال ہوگئی جسے موقع پر موجود افراد نے دلاسے دیے اور بیٹی کی جلدی بازیابی کی امید دلائی ، مغویہ عائشہ کے والد نے بتایا کہ ایک ماہ گزرنے کو ہے اور وہ بچی کی تلاش میں خود بھی در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور اسے تلاش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔