تنخواہ کی عدم ادائیگی بلدیاتی ملازمین نے توہین عدالت کی درخواست دائر کردی

بلدیہ عظمی کراچی کے32ہزارحاضر سروس و22 ہزارریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہیں اورپنشن گزشتہ 3 ماہ سے جاری نہیں کی جاسکی ہیں۔


Staff Reporter February 10, 2013
درخواست میں چیف سیکریٹری، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری بلدیات، فنانشل ایڈوائزرکے ایم سی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، فوٹو: فائل

KARACHI: عدالتی حکم کے باوجودکے ایم سی کے 54 ہزار سے زائد حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو تنخواہیں ادا نہ کرنے پر چیف سیکریٹری ،ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی اور دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سندھ ہائی کورٹ میں دائر کردی گئی ہے۔

درخواست میں چیف سیکریٹری، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری بلدیات، فنانشل ایڈوائزرکے ایم سی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست کی سماعت12فروری کو متوقع ہے، ندیم شیخ ایڈوکیٹ اور سجن یونین کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ عدالت نے کے ایم سی کے ملازمین کو7دن میں تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم دیا تھا مگر تاحال ادائیگی نہیں کی گئی مدعا علیہان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، واضح رہے کہ31 جنوری 2013 کو چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے جسٹس کلب کے ندیم شیخ ایڈووکیٹ اور سجن یونین کی جانب سے دائردرخواست پر تنخواہوں کی ادائیگی کا حکم جاری کیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا تھا کہ کے ایم سی کے 32 ہزار ملازمین تنخواہوں اور22 ہزار پنشنرز پنشن سے محروم ہیں،کے ایم سی کے وکیل خورشید جاوید نے عدالت کو بتایاتھا کہ کے ایم سی نے حکومت سندھ سے 82 کروڑ 75لاکھ روپے کی گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے ،گزشتہ 13 سالوں میں کے ایم سی کے ملازمین کی تنخواہوں میں 255 فیصداضافہ کیا گیا ہے،حکومت سندھ کی ٹیکس وصولی میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، کے ایم سی کو مزید225 ملین روپے کی گرانٹ درکار ہے اگر یہ رقم ادا کردی جائے تو مسائل حل ہوسکتے ہیں۔



درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلدیہ عظمی کراچی کے32 ہزار حاضر سروس و 22 ہزار ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہیں اور پنشن گزشتہ 3 ماہ سے جاری نہیں کی جاسکی ہے حکومت سندھ کو وفاق کی جانب سے آکٹر ائے اور پراپرٹی ٹیکس کی مد میں خطیر رقم سے ملازمین کی تنخواہیں دی جاتی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے مورخہ 9 جنوری 2012 کو اعلان کیا تھا کہ انھوں نے کے ایم سی کے تمام ملازمین کی تنخواہوں کو محفوظ بنادیا ہے اور ہر ماہ صوبائی محکمہ خزانہ کو 85 کروڑ 21 لاکھ اور 96 ہزار روپے جاری کرنے کا پابند کردیا ہے کہ وہ کے ایم سی ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں جاری کرتے رہیں گے، لیکن متعصب سندھ حکومت گزشتہ 2 ماہ سے اس وعدے سے انحراف کررہی ہے۔

ملازمین اس مہنگائی کے دور میں اہل خانہ کے میڈیکل اخراجات ،مکان کا کرایہ ،بچوں کے ماہانہ اخراجات ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم بھی خطرے میں پڑ گئی ہے جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت آکٹرائے کی مد میں ماہانہ رقوم بلدیہ عظمی کراچی کو ادا نہیں کی۔