تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کی تعداد میں اضافہ خون کی شدید قلت

ایک لاکھ بچوں کی زندگی بچانے کیلیے سالانہ 18لاکھ خون کی بوتلوںکی ضرورت ہے، صرف 8 لاکھ بوتلیں دستیاب ہیں


Staff Reporter February 15, 2013
40فیصد بچوں کی ضروریات کوپورا کیا جاسکتا ہے،5ہزار بچے تھیلیسیمیا کا میجر مرض لیکر پیدا ہورہے ہیں، ڈاکٹر ثاقب انصاری۔ فوٹو: فائل

ملک میں تھیلیسمیاکے مرض میں مبتلابچوں کی تعداد میں اضافے کے بعد محفوظ خون کی شدید قلت ہوگئی ہے۔

ملک بھرمیں ایک لاکھ بچے تھیلیسمیاکے میجر مرض میں مبتلا ہیں ان بچوںکی زندگی کوبچانے کیلیے سالانہ 18لاکھ خون کی بوتلوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے جبکہ8لاکھ خون کی بوتلیں دستیاب ہوتی ہیں جس سے25سے40فیصد بچوںکوصحت مند خون فراہم کیاجارہا ہے جبکہ60فیصد بچے صحت مند اورمطلوبہ مقدارمیں خون کی فراہمی سے محروم ہورہے ہیں جس کی وجہ سے ان بچوںکی زندگیوں کو شد ید خطرات لاحق ہیں اوریہ بچے زندگی کے انتہائی تکلیف دہ عمل سے گزررہے ہیں، عمیرثنا فاونڈیشن نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس مرض سے بچائو کیلیے قانون سازی کرے اور شادی سے قبل ٹیسٹ کولازمی قراردیاجائے۔



فاؤنڈیشن کے سیکریٹری ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتایاکہ ملک میں ایک لاکھ بچے تھیلیسمیاکے میجرمرض میں مبتلا ہیں جن کی زندگیاں بچانے کیلیے ماہانہ ڈیڑھ لاکھ اور سالانہ 18لاکھ خون کی بوتلوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں8لاکھ بوتل خون جمع ہوتا ہے انھوں نے بتایا کہ جمع ہونے والے خون سے صرف40فیصد بچوںکی ضروریات کوپوراکیاجاسکتا ہے جبکہ60فیصد بچوںکو مناسب مقدار میں خون فراہم نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ان بچوں کی زندگیاں اور صحت وذہنی نشوونماشدید متاثر ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 5ہزار بچے تھیلیسیمیا کے میجر مرض لے کر پیدا ہورہے ہیں ،جب ایک کروڑ بچوں میں اس مرض کی جین موجود ہے،انھوں نے کہاکہ ملک میں رضاکارانہ خون کا عطیہ کے رجحان نہ ہونے کی وجہ سے صحت مندانہ خون کی شدیدکمی ہے، دوسری جانب ملک میں سرکاری سطح پرسینٹرل الائزڈ بلڈ بینک نہ ہونے کی وجہ سے متاثر افراد کوصحت مندخون کے حصول کیلیے نجی بلڈ بینکوں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے جہاں ایک ڈونرکے ساتھ 12سوروپے فیس بھی وصول کی جارہی ہے ،حسینی بلڈ بینک کے ڈاکٹر سرفراز جعفری نے کہا کہ 18سے 60سال کے وہ افراد جن کا وزن50کلو گرام سے زائد ہو وہ خون کا عطیہ دے سکتے ہیں۔