شہر میں قصابوں نے عید کے پہلے روز کیلیے بکنگ بند کر دی

شہری جانوروں کو قربان کرنے کیلیے قصابوں کی تلاش میں سرگرم، قصابوں نے معاوضے میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ کر دیا


Staff Reporter September 02, 2017
معاوضہ جانوروں کا وزن دیکھ کر ہی طے کیا جاتا ہے، ہر علاقے کا معاوضہ الگ ہوتا ہے، قصاب، موسمی قصائی بھی میدان میں آ گئے۔ فوٹو : فائل

عیدالاضحی کے قریب آتے ہی شہری اپنے جانور قربان کرنے کیلیے قصابوں کی تلاش میں سرگرم ہیں تاہم شہر میں خاندانی قصابوں نے عید کے پہلے روز کیلیے ایڈوانس بکنگ بند کر دی۔

قصابوں نے گزشتہ عید کی نسبت رواں عید الاضحی پر اپنے معاوضے میں 30 سے 50 فیصد اضافہ کر دیا، مقامی قصاب محمد عارف قریشی نے بتایا کہ بڑے اور چھوٹے جانوروں کی قربانی کا معاوضہ جانوروں کے وزن کو دیکھ کر طے کیا جاتا ہے اور ہر علاقے میں معاوضہ الگ الگ ہوتا ہے۔ عید کے پہلے روز بڑے جانور کی قربانی کا معاوضہ 10 ہزار روپے سے 12 ہزار روپے تک ہوتا ہے، پوش علاقوں میں 15 سے 20 ہزار روپے تک معاوضہ لیا جاتا ہے، چھوٹے جانور کی قربانی کا معاوضہ 4 ہزار سے 6 ہزار روپے تک جبکہ پوش علاقوں میں 5 سے 10ہزار روپے تک معاوضہ لیا جاتا ہے، بھاری جانور کے قربانی کے ریٹ الگ ہوتے ہیں ،دوسرے دن بڑے جانور کی قربانی کا معاوضہ 7 ہزار سے 10 ہزار اور چھوٹے جانور کے 3 سے 5 ہزار اور تیسرے دن بڑے جانور کے 5 سے 8 ہزار اور چھوٹے جانور کے 2 سے 3 ہزار روپے لیے جاتے ہیں۔

قصاب محمد عارف قریشی نے بتایا کہ خاندانی قصاب جانوروں کو قربان کرنے کی بکنگ عید سے قبل مکمل کرلیتے ہیں اور وہ ٹولیوں کی شکل میں اپنے گاہکوں کے پاس ان کے گھروں یا فلیٹوں میں جاکر قربانی کرتے ہیں، دوسری جانب سے خاندانی قصابوں کی قلت کے باعث موسمی قصاب بھی میدان میں آ گئے ہیں، پنجاب اور سندھ کے مختلف اضلاع کے علاوہ دیگر ہنرمند افراد بھی 3 دن کی دیہاڑی لگاتے ہیں، ان میں سے بعض افراد اناڑی ہوتے ہیں جو کھال اور گوشت کو خراب کردیتے ہیں۔

علاوہ ازیں کراچی کے مختلف علاقوں میں قصابوں نے اپنی دکانوں کے آگے اجتماعی قربان گاہیں قائم کرلی ہیں ، ان قربان گاہوں میں جانوروں کی قربانی کے لیے خصوصی ٹوکن نمبر جاری کیے جاتے ہیں اور بیک وقت 5سے 10جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ ان قربان گاہوں میں قصاب مختلف کام سرانجام دیتے ہیں، جانوروں کو ذبح کرنے اور کھال اتارنے کا کام کمیل دار کرتے ہیں جو مذبحہ خانوں سے خصوصی طور پر آتے ہیں،گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے کرنے اور ہڈیوں کو توڑنے والے قصاب الگ ہوتے ہیں، گوشت کو بوٹیوں کی شکل دینے والے قصاب الگ ہوتے ہیں۔

شہر میں قصابوں کی قلت کے باعث مختلف فلاحی اداروں کی جانب سے عارضی قربان گاہیں قائم کی جائیں گی جہاں اجتماعی قربانی کے علاوہ انتہائی کم معاوضے پر شہریوں کے جانور بھی قربان کیے جائیں گے، ان جانوروں کی قربانی کا معاوضہ 3ہزار سے 6ہزار روپے تک لیا جاتا ہے۔