محکمہ شماریات غیر فعال رہنے سے مختلف شعبوں کے اعداد و شمار کئی سال سے جمع نہیں ہوئے

دفاتر پر سیکیورٹی اداروں نے قبضہ کرلیا، افسران کی 97 اسامیاں خالی ہیں


Staff Reporter September 10, 2017
صوبائی وزیر کا دفاترسے قبضے ختم کرانے ، 97 اسامیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پرکرنیکا حکم۔ فوٹو: فائل

حکومت سندھ کا محکمہ شماریات غیر فعال ہوگیا، محکمے نے صوبے کے مختلف شعبوں سے متعلق اعدادوشمار کو کئی سال سے اپ ڈیٹ نہیں کیا۔

گزشتہ روز صوبائی وزیر ترقی و منصوبہ بندی میر ہزار خان بجارانی کو محکمہ شماریات سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نسیم غنی سہتو کی جانب سے بریفنگ میں دی گئی صوبائی وزیر نے صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ محکمہ شماریات اہم ادارہ ہے جس کے جمع کیے گئے اعدادوشمار کی روشنی میں سندھ حکومت مختلف اداروں کے لیے منصوبہ بندی کرکے نئی پالیسی بناتی ہے مگر کئی سال سے پرانے اعدادوشمار سے کام چلایا جارہا ہے۔

بریفنگ میں انڈسٹریل پروڈکشن اینڈ امپلائمنٹ ،سندھ ڈیولپمنٹ اسٹیٹکس، زراعت، صحت، اسکول وکالج ایجوکیشن کے متعلق 3 سال پرانی پبلی کیشن اور سروے رپورٹ دکھائی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ کے مختلف علاقوں میں محکمہ شماریات کے کئی دفاتر پر سیکیورٹی اداروں نے قبضہ کرلیا ہے اور دفاتر غیر فعال ہوچکے ہیں۔

میر ہزار خان بجارانی نے محکمے کی حالت پر چیئرمین ترقی و منصوبہ بندی محمد وسیم کو دفاتر سے قبضے ختم کرانے کے لیے قانونی چارہ جو ئی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ97خالی آسامیا ں سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کی جائیں، افسران کو ترقی دی جائے اور ان کی جدید تربیت کا انتظام کیا جائے۔

محکمہ شماریات کے ڈائریکٹر جنرل جلد سے جلد مختلف شعبوں کے نئے سرے سے سروے کرواکر ڈیٹا جمع کرکے نئے پبلی کیشن چھپوائیں ، صوبائی وزیر نے محکمہ شماریا ت کو فعال کرنے کے لیے غیر حاضر رہنے والے افسران کے خلاف کارروائی کرکے حا ضری درست کرنے کا حکم دیا۔

ادھر چیئرمین ترقی و منصوبہ بندی محمد وسیم نے اجلاس کو بتایا کہ محکمہ شماریات کے ہیڈ آفس میں کام کرنے والے تمام ملازمین کو بہت جلد سندھ سیکریٹریٹ کے ملازمین کے برابر الاؤنس دیے جائیں گے۔