سندھ کی سیاسی صورت حال
فنکشنل لیگ سندھ میں پیپلز پارٹی کا متبادل بننے جا رہی ہے
سندھ کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ نواز شریف سندھ میں جلسے کر رہے ہیں ہم پنجاب میں جلسے کریں گے، پنجاب میں پی پی پی کو کسی نے جلسے کرنے سے روکا ہے نہ مسلم لیگ (ن) کو سندھ میں۔ عام انتخابات کے باعث جلسوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب سندھ میں نواز شریف نے جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، کیونکہ سندھ کو پیپلز پارٹی اپنا گڑھ قرار دیتی ہے جس میں شگاف ڈالنے کی میاں نواز شریف کوشش کر رہے ہیں اور سندھ میں اپنی سیاسی تنہائی دور کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انھیں سندھ میں پیر پگاڑا اور کچھ قوم پرست جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں سندھ میں فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر صاحب کی قیادت میں سندھ کی دس جماعتوں نے مل کر پیپلز پارٹی کے مقابلے میں اپنے مشترکہ امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا تھا جن میں مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی، جے یو آئی، جے یو پی اور کچھ قوم پرست جماعتیں شامل ہیں۔
اے این پی سندھ نے متحدہ کی مخالفت کے باعث سندھ کے نئے بلدیاتی نظام کی مخالفت میں جلد بازی میں فنکشنل لیگ، این پی پی اور (ق) لیگ کے ایک صوبائی وزیر شہر یار کے ساتھ سندھ کابینہ میں اپنے واحد وزیر سے استعفیٰ دلا دیا تھا جو اب تک منظور نہیں ہوا جب کہ باقی وزیروں کے استعفے منظور ہو گئے تھے۔
راقم نے چند ماہ قبل سندھ کی بلدیاتی سیاسی صورت حال کے عنوان سے اپنے کالم میں کہا تھا کہ فنکشنل لیگ سندھ میں پیپلز پارٹی کا متبادل بننے جا رہی ہے اور پیپلز پارٹی سے ناراض اور نالاں سیاسی لوگ اب فنکشنل لیگ میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ یہ بات کافی حد تک درست ثابت ہوئی اور سندھ میں مسلم لیگ (ق) کا غوث بخش مہر گروپ فنکشنل لیگ میں شامل ہو گیا جب کہ سابق وزیر اعلیٰ علی محمد مہر کا گروپ پہلے ہی پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی بھی سندھ میں (ق) لیگ کے رہنماؤں کو توڑنے میں کامیاب رہی ہے اور (ق) لیگ کے صوبائی جنرل سیکریٹری حلیم عادل شیخ نمایاں رہ گئے ہیں جو وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر ہیں اور اب تک (ق) لیگ ہی میں موجود ہیں اور (ق) لیگ ہی کی وجہ سے وہ صوبائی مشیر ہیں، ویسے سندھ میں کافی حد تک پیپلز پارٹی (ق) لیگ کا صفایا کر چکی ہے جس کی شکایت چوہدریوں نے صدر زرداری سے کی تھی جس کے بعد پی پی پی نے اپنا ہاتھ روک لیا تھا۔
سندھ میں مسلم لیگ کا ہم خیال گروپ بھی ایک دو اضلاع میں موجود ہے جنہوں نے بلدیاتی نظام کی مخالفت میں فنکشنل لیگ کا ساتھ دیا تھا، مگر پیر پگاڑا کی سربراہی میں بننے والے پی پی پی مخالف اتحاد میں ہم خیال شامل نہیں کیونکہ ہم خیال کے صدر ارباب غلام رحیم کے مخالف امتیاز شیخ فنکشنل لیگ میں اپنی اہمیت منوا کر جنرل سیکریٹری بن چکے ہیں، جنھیں ارباب رحیم نے اپنی وزارت اعلیٰ میں سندھ کابینہ سے برطرف کر دیا تھا اور ان پر کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے، ارباب غلام رحیم کے ہم خیال گروپ کا مسلم لیگ (ن) سے تو اتحاد مرکزی سطح پر ہے، مگر مسلم لیگ (ن) کی طرح ہم خیال گروپ سندھ میں فنکشنل لیگ کے اتحاد میں شامل نہیں ہے جن کی وجہ سے سابق وزیر اعلیٰ غلام ارباب رحیم سندھ میں سیاسی طور پر تنہا ہیں اور اپنے مخصوص علاقوں تک محدود ہیں۔
سندھ کی قوم پرست پارٹیوں میں کوئی پارٹی اتنی مضبوط نہیں ہے جو تنہا کوئی صوبائی نشست جیت سکے۔ تمام قوم پرست متحدہ کے سخت خلاف ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے متحدہ سے فاصلے بہت بڑھے ہوئے ہیں جو نواز شریف نے خود بڑھا کر قوم پرستوں سے ہاتھ ملایا تھا۔ سندھی قوم پرست سندھ میں ہڑتالیں کرا سکتے ہیں، جلسے کر سکتے ہیں، مگر سب متحد نہیں ہیں البتہ متحدہ اور پی پی پی کی مخالفت میں سب ایک ہیں اور سندھ حکومت کے متنازعہ بلدیاتی نظام نے انھیں سیاست چمکانے کا سنہری موقع فراہم کر رکھا ہے۔
پیپلز پارٹی کراچی کے دیہی علاقوں اور لیاری کو اپنا گڑھ قرار دیتی ہے، مگر سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے لیاری میں پیپلز امن کمیٹی کی سرپرستی کر کے متحدہ اور امن کمیٹی کو لڑوا دیا تھا وہ خود تو کراچی میں آگ لگاکر حکومت سے الگ ہو گئے تھے جس کے بعد سندھ حکومت اور امن کمیٹی کے درمیان فاصلے بڑھ گئے تھے۔ حالات خراب ہوئے اور قتل و غارت بھتہ خوری عام ہوئی تو حکومت نے لیاری امن کمیٹی کے رہنماؤں کے سر کی قیمت مقرر کر دی تھی جو اب واپس لے لی گئی ہے، کیسز بھی واپس لیے گئے جس پر متحدہ ناراض ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی اب بری طرح پھنس کر رہ گئی ہے۔ اسی لیے امن کمیٹی سے متعلق حکومت نے پالیسی نرم کر لی ہے وگرنہ خدشہ تھا کہ گینگ وار گروپ کے سربراہ پی پی پی کو چھوڑ کر (ن) لیگ سے نہ مل جائیں اور پیپلز پارٹی کو اپنی لیاری کی نشست سے محروم نہ ہونا پڑے۔ پی پی لیاری میں گینگ وار کارندوں سے مفاہمت کے بعد ہی بلاول کو ساتھ لے جا سکتی ہے۔
حکومت کے 5 سال مکمل ہو ہی گئے ہیں اب اگر متحدہ پیپلز پارٹی اتحاد ٹوٹ بھی جائے تو صدر زرداری کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، انھیں متحدہ اپنا کوئی حلقہ نہیں دے گی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ انتخابی اتحاد کرنے کے بجائے خود تنہا الیکشن لڑے گی اور دونوں پارٹیوں کے درمیان مقابلہ ضرور ہو گا۔
اندرون سندھ پیپلز پارٹی کا مقابلہ فنکشنل لیگ کے اتحادی امیدواروں سے بڑا سخت ہو گا اور اب پی پی پی کے امیدواروں کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام پر ووٹ نہیں ملیں گے کیونکہ اندرون سندھ بھی لوگ موجودہ حکومت سے اب بیزار ہیں، مگر وڈیروں کے جو مضبوط انتخابی حلقے ہیں وہاں بھی اب بھٹو خاندان کے نام پر ووٹ مشکل سے ملیں گے اور انھیں سخت مقابلہ درپیش ہو گا۔ کراچی میں اس بار متحدہ اور پی پی پی کے امیدواروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہو گا، حکومتی اتحادی رہنے کی وجہ سے متحدہ کی مقبولیت بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی ہے اور نہ اب متحدہ کو پہلے جیسا فری ہینڈ ملے گا کیونکہ اس کا مقابلہ بھی اب اتحادی امیدواروں کے ساتھ ہو گا۔
کراچی میں فنکشنل لیگ تو کوئی سیٹ نہ نکال سکے گی مگر متحدہ کو کراچی میں جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) کے مضبوط امیدواروں کا مقابلہ کرنا پڑے گا جنھیں جے یو آئی اور جے یو پی کی حمایت حاصل ہو گی۔ اے این پی بھی شاید اپنی دو موجودہ نشستیں بچا سکے کیونکہ اس کا متحدہ سے اتحاد ممکن نہیں اور (ن) لیگ کی طرف اے این پی کے جانے کا امکان اس کی مجبوری ہو سکتا ہے اور مذہبی حلقوں کا ووٹ اتحادی امیدواروں کے حق ہی میں استعمال ہو گا۔