بلدیہ عظمیٰ نجی اسپتالکلینکس اور زچہ خانے رجسٹرڈ کریگی

رجسٹریشن کے بعد عطائی اسپتالوں اور کلینکوں کا خاتمہ ہوجائیگا،ای ڈی او ہیلتھ.


Staff Reporter February 21, 2013
رجسٹریشن کے بعد عطائی اسپتالوں اور کلینکوں کا خاتمہ ہوجائیگا،ای ڈی او ہیلتھ. فوٹو: آن لائن

MULTAN: بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر کے تمام نجی اسپتالوں ، کلینکس اور میٹرنٹی ہومز کو ریگولرائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریگولرائزیشن (رجسٹریشن) کے لیے سابقہ سٹی ڈسٹرکٹ کونسل نے ڈھائی برس قبل قرارداد منظور کی تھی لیکن تاحال نجی اسپتالوں ، کلینکس اور میٹرنٹی ہومز کو ریگولرائزیشن کا معاملہ سرد خانے کی نذر ہوگیا تھا،تفصیلات کے مطابق بدھ کو ای ڈی او ہیلتھ کراچی ڈاکٹر امدداد اللہ صدیقی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں نجی اسپتالوں ، کلینکس اور میٹرنٹی ہومز کو ریگولرائزیشن کے لیے ڈاکٹر ظفر اعجاز کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو پہلے مرحلے میں نجی اسپتالوں ، کلینکس اور میٹرنٹی ہومز کی ریگولرائز کرنے کے لیے سروے کرے گی اور انہیں رجسٹریشن فارم جاری کرے گی جس کے بعد اسپتالوں میں موجودہ سہولتوں کا جائزہ لیا جائے گا اور رجسٹریشن کا فیصلہ کیا جائے گا۔

4

ای ڈی او ڈاکٹر امداد اللہ کے مطابق شہر میں اس وقت 50 ہزار سے زائد عطائی ڈاکٹر شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور نجی اسپتالوں ، کلینکس اور میٹرنٹی ہومز کی رجسٹریشن کے بعد شہر سے عطائی اسپتالوں اور کلینکوں کا خاتمہ ہوگا،نجی اسپتالوں ، کلینکس اور میٹرنٹی ہومز کو رجسٹریشن کے بعد دو سال کے لیے لائسنس دیا جائے گا جو کلینکس میں آویزاں کرنے کے پابندہوں گے،جبکہ نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کی اسناد بھی چیک کی جائیں گی جس سے جعلی اوراطائی ڈاکٹروں خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کی رہنما ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا ہے کہ ہم اس فیصلے کے حق میں نہیں ہیں اور نہ ہی اس فیصلے سے عطائیت کا خاتمہ ممکن ہے،اس فیصلے سے رشوت کا بازار گرم ہو گا اور جو چاہے رشوت دے کر اپنے اسپتال، کلینک اور میٹرنٹی ہوم کو ریگولرائز کروالے، ہیلتھ کمیشن بل گزشتہ ڈھائی سال سے اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا ہے اگر بل پیش کر دیا جاتا تو یہ تمام مسائل خود بخود حل ہو جاتے۔