عوامی حکومت کے 5 سال مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

آٹا 24 روپے فی کلو، چینی 25 ،چاول 60 ،دالیں 50 ،چائے کی پتی 310 ،خشک دودھ 330، ٹیٹرا پیک دودھ 55 روپے مہنگا ہوگیا


Kashif Hussain February 22, 2013
پیک اشیا فروخت کرنیوالوں نے لوٹ مچائی،امن و امان ، گیس اور بجلی بحران سے لاگت بڑھ گئی،کرنسی کی بے قدری اور پٹرول کی قیمت میں اضافے نے مہنگائی بڑھائی،شکیل بیگ فوٹو: فائل

موجودہ عوامی حکومت کے پانچ سال کے دوران آٹے کی قیمت میں فی کلو 24 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

فلور ملوں کا ڈھائی نمبر کا آٹا مارچ 2008 میں 16روپے کلو فروخت کیا جارہا تھا جو اب 40 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے،عوامی حکمرانی میں عوام کے لیے مہنگائی کا طوفان سب سے بڑا مسئلہ بنا رہا، چینی کی قیمت 25روپے سے بڑھ کر 50روپے کلو، چائے کی پتی کی قیمت 300 روپے کلو سے بڑھ کر 615 روپے کلو، خشک دودھ کی قیمت 310 روپے فی کلو سے بڑھ کر 640روپے کلو تک پہنچ گئی، دالوں کی قیمتیں دگنی ہوگئیں جبکہ چاول کی قیمت میں 50 روپے فی کلو تک اضافہ ہوگیا۔

ایکسپریس کے مرتب کردہ سروے کے مطابق گھریلو استعمال کی بنیادی خوردنی اشیا کی قیمتوں میں عوامی حکومت کے دور میں 100فیصد تک اضافہ ہوا ہے، مکانات کے کرائے، ٹرانسپورٹ پر اٹھنے والے اخراجات، اسکول کی فیس اور بجلی کے نرخ بڑھنے سے عوام کو بیک وقت مختلف سمتوں سے مہنگائی کی یلغار کا سامنا ہے،کراچی ریٹیل گراسرز گروپ کے اعدادوشمار کے مطابق مونگ کی دال مارچ 2008 میں 50 روپے کلو فروخت کی گئی جواب 108روپے کلو فروخت کی جارہی ہے، مونگ کی چھلکے والی دال کی قیمت پانچ سال میں 44 روپے سے بڑھ کر 100روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔

ماش کی دال کی قیمت 60 روپے سے بڑھ کر 95روپے کلو، ارہر کی دال کی قیمت 82 روپے سے بڑھ کر 150روپے کلو، چنے کی دال کی قیمت 48 روپے کلو سے بڑھ کر 80 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے،عوامی حکومت کے آغاز پر 10کلو آٹے کا تھیلا 150 روپے کلو فروخت کیا جارہا تھا جو اب 420 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے ڈھائی نمبر آٹا 16روپے سے بڑھ کر 40روپے کلو، چکی کا آٹا 24 روپے سے بڑھ کر 44 روپے کلو، میدہ 24 سے بڑھ کر 45 اور سوجی 24 سے بڑھ کر 45 روپے کلو بیسن 45 سے بڑھ کر 110روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے، مکسچر چائے کا 200 گرام کا پیک پانچ سال میں 59 روپے سے بڑھ کر 123روپے تک پہنچ گیا ہے اسی طرح دانے دار چائے کا 200 گرام کا پیک 63 روپے سے بڑھ کر 123 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔



گھی اور تیل کی قیمت میں 5 سال کے دوران غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے ایک کلو گھی کا پیکٹ 5 سال قبل 144روپے میں فروخت ہورہا تھا جو اب 210 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے اسی طرح ایک لیٹر تیل کے پیکٹ کی قیمت 140سے بڑھ کر 170روپے تک پہنچ گئی ہے، چاول سپر کرنل باسمتی 90 روپے سے بڑھ کر 140روپے کلو، کرنل باسمتی 85 سے بڑھ کر 130روپے کلو، ونڈ باسمتی 75سے بڑھ کر 100روپے کلو، باسمتی سیلا 70سے بڑھ کر 130روپے کلو، باسمتی ٹوٹا چاول 46 سے بڑھ کر 70روپے کلو، اری چاول 35 اور 42 سے بڑھ کر 50 روپے کلو فروخت ہورہا ہے، ٹیٹرا پیک دودھ کی قیمت میں 5 سال کے دوران 46 روپے لیٹر اضافہ ہوا اور ٹیٹرا دودھ کی قیمت 44سے بڑھ کر 90روپے لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔

مختلف قسم کے ڈٹرجنٹ کی قیمت 150روپے سے بڑھ کر 240 روپے کلو تک پہنچ گئی ہے صابن پر بھی فی ٹکیہ 9 سے 15روپے کا اضافہ ہوا ہے، کراچی ریٹیل گراسرز گروپ کے جنرل سیکریٹری محمد فرید قریشی کے مطابق کمر توڑ مہنگائی سے عوام کے ساتھ دکاندار بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں 5 سال کے دوران روز مرہ استعمال کی اشیا کی فروخت میں70فیصد تک کمی واقع ہوچکی ہے عوام کی اکثریت نے ماہانہ بنیادوں پر راشن کی خریداری بند کردی ہے اور روز مرہ بنیادوں پر اشیا صرف خریدنے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے، فرید قریشی کے مطابق پیک اشیا تیار اور فروخت کرنے والی کمپنیوں نے لوٹ مچارکھی ہے پرائس کنٹرول اداروں اور میڈیا کی تمام توجہ صرف کھلی،اشیا کی قیمتوں اور معیار پر مرکوز ہے جس سے فائدہ اٹھاکر پیک اشیا فروخت کرنے والی کمپنیاں عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں ایک جانب وزن میں کمی کی جارہی ہے۔

دوسری جانب قیمت میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے،شہر میں امن و امان کی صورتحال بجلی گیس کے بحران اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پیداواری لاگت بڑھنے سے اشیا کی قیمت بڑھ رہی ہے لیکن قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات بھی نہیں کیے گئے،صارفین کے تحفظ کی تنظیم کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین شکیل بیگ کے مطابق پانچ سال کے دوران کرنسی کی قدر میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے نے مہنگائی میں اہم کردار ادا کیا تاہم دوسری جانب ملک میں بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والی اشیا کی بلا روک ٹوک برآمد اور اسمگلنگ سے بھی اشیا کی قلت کا سامنا ہے جس سے ڈیمانڈ اور سپلائی کا فرق بڑھ رہا ہے ملک سے بڑے پیمانے پر گوشت، زندہ مویشی چاول کی ایکسپورٹ سے ان اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں حکومت کا پرائس کنٹرول کا مکینزم منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی سرکوبی میں بھی ناکام رہا جس کا خمیازہ عوام کو قیمتوں میں ناجائز اضافے کی شکل میں بھگتنا پڑرہا ہے۔

مقبول خبریں