ایف بی آرماسٹرانڈیکس میں ٹیکس دہندگان کااہم ڈیٹانہیں

ماسٹر انڈیکس میں 1لاکھ 54 ہزار 112اے او پیز میں سے 85 ہزار873 کے پتے ہی موجود نہیں۔


Irshad Ansari February 26, 2013
ایف بی آر کے ماسٹر انڈیکس میں 22 لاکھ42 ہزار 830 انفرادی کاروباری لوگوں کا ڈیٹا موجود ہے۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR/ISLAMABAD: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے ماسٹر انڈیکس میں ٹیکس دہندگان کے بارے میں اہم ترین اور ضروری ڈیٹا کی عدم موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ انکشاف اتوار کو تیز ترین ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں چیئرمین نادرا کے مشیر کی طرف سے دی جانیوالی پریزنٹیشن میں کیا گیا کہ ایف بی آر کے ماسٹر انڈیکس میں 1لاکھ 54 ہزار 112ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پیز) میں سے 85 ہزار873 اور53ہزار696کمپنیوں میں سے 19 ہزار 936کمپنیوں کے پتے ہی موجود نہیں ہے، اسی طرح 22 لاکھ42 ہزار 830 انفرادی کاروباری لوگوں کا بھی ڈیٹا ماسٹرانڈیکس میں ہے۔



جن میں سے 4 لاکھ20 ہزار83 لوگوں کے پتے نہیں ہیں جبکہ 3لاکھ 72 ہزار8 افراد کی طرف سے دیے جانے والے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ غلط و ناکارہ ہیں۔ دستاویز کے مطابق ایف بی آر کے پاس 15لاکھ 85ہزار 824 تنخواہ دار ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا موجود ہے جن میں سے 2لاکھ 12 ہزار 212 تنخواہ دار ملازمین کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ غلط ہیں۔

دستاویز کے مطابق اجلاس میں شریک بین الاقوامی ٹیکس ماہرین نے ایف بی آر کو تجویز دی ہے کہ پاکستان کی ٹیکس پالیسی میں انتہائی سنگین نقائص دور کیے جائیں اور ویلتھ ٹیکس بحال کرنے کے ساتھ وراثتی اثاثہ جات و تحائف پر ٹیکس عائد کیے جائیں، اسی طرح سیلز ٹیکس چھوٹ سے جان چھڑائی جائے، سیلز ٹیکس کی مختلف شرحیں ختم کر کے ایک شرح نافذکرنے کی کوشش کی جائے اور اگر بہت ضروری ہو تو صرف 2 شرحیں متعارف کرائی جائیں، اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں رعایتیں بھی ختم کی جائیں۔