شاہ زیب قتل کیس کومنتقل کرنے کی درخواست پرنوٹس

تفتیشی افسرنے بدنیتی سے انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعہ 7کا اضافہ کیا، وکیل صفائی


Staff Reporter February 26, 2013
ملزمان نے تعاقب کرکے کار کو ٹکر ماری اور فائرنگ کی جس سے شاہ زیب قتل ہوا، استغاثہ فوٹو: فائل

لاہور: شاہ زیب قتل کیس انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے دائرہ سماعت میں نہیں آتا، اس لیے مقدمہ سماعت کے لیے سیشن عدالت منتقل کیا جائے۔

یہ موقف مقدمے کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کی جانب سے پیر کودائر درخواست میں اختیارکیاگیا،درخواست سینئرایڈووکیٹ سابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ شوکت زبیدی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائرکی گئی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت 03نے پیر کووکیل صفائی کے ابتدائی دلائل کے بعد سرکار کو منگل کے لیے نوٹس جاری کردیے ، شوکت زبیدی ایڈووکیٹ نے موقف اختیارکیا کہ ملزمان کے اقدام سے معاشرے میں دہشت گردی نہیں پھیلی بلکہ معاشرے میں دہشت گردی میڈیا نے پھیلائی،انھوں نے موقف اختیارکیاکہ مقدمے میں دہشت گردی کاعنصرنہیں بنایا جاتا بلکہ تفتیشی افسرنے بدنیتی کی بنیاد پرایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7کا اضافہ کیا۔



استغاثہ کے مطابق درخشاں پولیس اسٹیشن کی حدود میں ملزمان شاہ رخ جتوئی ،مرتضی لاشاری،سجاد تالپور اور دیگر نے 24دسمبرکی رات ڈی ایس پی اورنگزیب کے 20سالہ بیٹے کی کارکاتعاقب کرتے ہوئے اس پرفائرنگ کی اوراس کی گاڑی کوٹکر ماری ، جس کے نتیجے میں شاہ زیب ہلاک ہوگیا،واضح رہے کہ اس سے قبل ملزم شاہ رخ جتوئی کی عمرکے حوالے سے اسے بچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ، تاہم تعلیمی اسناد پر درج تاریخ پیدائش اورطبی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ملزم شاہ رخ جتوئی کی عمر18سال سے زائد قراردی گئی۔