پولیس قاتل پکڑنے کے بجائے ہراساں کررہی ہے فوزیہ

مہوش نے موقع ملنے پر بتایا تھا کہ شوہر ڈاکو ہے، گھر میں زیور،نقدی اور موبائل فون دیکھے.


Staff Reporter February 27, 2013
پولیس ہمیں ملوث کرنے پر تلی ہوئی تھی فہیم کے رشتے دار موجود ہیں،ایکسپریس سے گفتگو۔ فوٹو: فائل

پولیس اگر چاہے تو میری بیٹی کے قاتل کو گھنٹوں میں گرفتار کرسکتی ہے لیکن پولیس ملزم کو گرفتار کرنے کے بجائے مقتولہ کے بھائی اور اس کے کزن کو واردات میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

مہوش کی والدہ فوزیہ نے ایکسپریس سے گفتگو میں بتایا کہ ملزم کے3حقیقی بھائی اور ایک بہن موجود ہیں جنھیں پولیس ان کا منہ بولا بھائی بہن بول رہی ہے جس شخص نے مہوش کا رشتہ طے کرایا تھا اس سے بھی پولیس نے تفتیش نہیں کی تیموریہ تھانے کی انویسٹی گیشن پولیس مہوش کے قتل میں ملوث اس کے شوہر فہیم کو گرفتار کرنا چاہے تو چند گھنٹوں میں کر سکتی ہے لیکن پولیس ملزم کو گرفتار کرنے کے بجائے اس کے بھائی جبران اور اس کے کزن اویس کو مہوش کے قتل میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہی ہے یہ بات مقتولہ کی والدہ فوزیہ ربانی نے ایکسپریس سے گفتگو میں بتائی، انھوں نے بتایا کہ جبران تو مہوش کے ساتھ ہی رہتا تھا، تاہم15جنوری کو میرا بھانجا اویس جو جبران کے ساتھ فیکٹری میں کام کرتا تھا وہ بھی مہوش کے گھر رک گیا تھا۔

7

انھوں نے بتایا کہ جب ملزم فہیم نے مہوش کے گلے پر چھری پھیری اس وقت وہ کریانہ شاپ کے مالک وقاص قریشی سے فون پر بات کر رہی تھی انھوں نے بتایا کہ مہوش نے فہیم کو خدا کا واسطہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں مارو یہ بات وقاص قریشی نے بھی موبائل فون پر سنی واردات کے 3 گواہ ہونے کے باوجود تفتیشی پولیس میرے بیٹے اور بھانجے سے تفتیش کر رہی ہے،مہوش کے پاس کافی سونے کے زیورات ، رقم اور لیپ ٹاپ تھا تاہم واردات کے بعد پولیس نے اس کا مکان اپنے قبضے میں لے لیا تھا جس کی وجہ سے انھیں نہیں معلوم کے مہوش کے پیسے ، زیورات اور دیگر سامان اس وقت کس کے پاس ہیں۔