میڈیا ایکسکلوزیو اور بریکنگ نیوز میں فرق رکھےعافیہ سلام

سرخیوں میں خواتین کی شخصیت مسخ کرنیوالے الفاظ کا استعمال بڑھتا جارہا ہے


Staff Reporter February 27, 2013
کے یوجے اوراین جی اوکے تعاون سے منعقدہ ورکشاپ کے شرکا میںسرٹیفکیٹ تقسیم. فوٹو فائل

میڈیا کنسلٹنٹ عافیہ سلام نے کہا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا ایکسکلوزیو اور بریکنگ نیوز میں فرق رکھے۔

ایک ہی وقت میں ایک ہی خبر متعدد چینلز پر بریکنگ کے طور پر نشر کی جاتی ہے،صنفی توازن برقرار رکھنے کی بھی اشد ضرورت ہے،سرخیوں میں خواتین کی شخصیت مسخ کرنے والے الفا ظ کا استعمال بڑھتا جارہا ہے،اس عمل کو فوری روکنے کی ضرورت ہے ،صنفی توازن برقرار رکھنے اور معیار بہترکرنے سے چینل دیکھنے والوں اور اخبار پڑھنے والوںکی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے،یہ بات انھوں نے کراچی یونین آف جرنلسٹس اور غیرسرکاری تنظیم کے تعاون سے منعقدہ ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

7

انھوں نے کہا کہ اہم خبر تقریباً ہر چینل پر ایک ہی وقت میں بریکنگ کے طور پر نشر ہوتی ہے ، پرنٹ میڈ یا کی بعض خبروں میں خواتین کیلیے ایسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں کہ پڑھنے والا ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے حالانکہ ان کی جگہ متبادل اور مناسب الفا ظ استعمال کیے جاسکتے ہیں ، میڈیا ہائوسز کی ذمے داری ہے کہ صحافیوں اور دیگر عملے کو تربیت دیں، ورکشاپ کے اختتام پر شرکا میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے گئے ۔