کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے 14 افسران و اہلکاروں کو معطل کرنے کا حکم

سپاہی اﷲ رکھیونےایک ایسےشخص کو500روپےکےعوض ڈرائیونگ لائسنس بنوا کر دیا تھا جو کہ نابینا تھا،ایڈیشنل آئی جی ٹریفک.


Staff Reporter February 28, 2013
آئی جی سندھ نے ڈرائیونگ لائسنس برانچ اوراس کے باہر غیر قانونی کاموں کو نہ روکنے پر ویجیلنس ٹیم کو سربراہ سمیت معطل کیا۔ فوٹو: فائل

KARACHI: آئی جی سندھ نے کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ کی ویجیلنس ٹیم کے سربراہ سمیت 14 افسران اور اہلکاروںکو معطل کرکے محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دے دیا۔

موٹر وہیکل انسپکشن ( ایم وی آئی) کے ڈی ایس پی اور انسپکٹر کو بھی غفلت و لاپروائی کا مظاہرہ کرنے پر معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے،آئی جی سندھ نے کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے اہلکار کی جانب سے ایک نا بینا شخص کو ڈرائیونگ لائسنس بنا کر دینے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پولیس اہلکار اور ایجنٹ کے خلاف فوری کارروائی کا بھی حکم دیا ہے جس کے بعد ڈرائیونگ لائسنس بنانے والا پولیس اہلکار گرفتاری کے خوف سے روپوش ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ فیاض لغاری نے محکمانہ فرائض میں غفلت و لاپروائی کا مظاہرہ کرنے اور 500 روپے کے عوض ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کی اطلاع پر ڈی ایس پی ایم وی آئی راجہ محمد ارشد اور موٹر وہیکل انسپکٹر محمد نصیر بھٹی کومعطل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، آئی جی سندھ فیاض لغاری نے کلفٹن لائسنس برانچ میں تعینات ویجیلنس ٹیم کے انچارج سمیت 14 افسران و اہلکاروں کو معطل کردیا جس میں ویجیلنس ٹیم کے انچارج سب انسپکٹر محمد طفیل ، سب انسپکٹر شرافت حسین ،سب انسپکٹر ملک محمد جاوید ،اے ایس آئی رب نواز،اے ایس آئی رئیس احمد ، اے ایس آئی احمد خان ، ہیڈ کانسٹیبل جاوید اصغر ،کانسٹیبلز فضل وہاب ، محمد ارشد ، راحت اﷲ خان ، محمد ندیم اعوان ، عمران حسین ، محمد رمضان اور محمد یونس کو فوری طور پر معطل کرکے محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دیا ہے۔

4

اس سلسلے میں ایڈیشنل آئی جی ٹریفک سندھ ذاکر حسین نے بتایا کہ کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے سپاہی اﷲ رکھیو نے ایک ایسے شخص کو ڈرائیونگ لائسنس بنوا کر دیا تھا جو کہ نا بینا تھا تاہم لائسنس سامنے آنے پر کلفٹن لائسنس برانچ کے ڈی ایس پی اورنگزیب نے تحقیقات کے بعد لائسنس جعلی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا اور بتا یا کہ مذکورہ ڈرائیونگ لائسنس کا کلفٹن برانچ میں کوئی اندراج نہیں ہے،ایڈیشنل آئی جی ٹریفک سندھ ذاکر حسین نے مزید بتایا کہ جعلی ڈرائیونگ لائسنس پولیس اہلکار نے باہر کسی ایجنٹ سے بنوایا تھا جس کی فیس کے علاوہ اس نے 500 روپے اضافی بھی طلب کیے تھے۔

نابینا شخص کو جعلی ڈرائیونگ لائسنس دیے جانے کی اطلاع پر آئی جی سندھ فیاض لغاری نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ ناصر آفتاب کو تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی اور ان کی جانب سے دی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ پر آئی جی سندھ نے کلفٹن لائسنس برانچ میں تعینات ویجیلنس ٹیم کو سربراہ سمیت معطل کر دیا ، ویجیلنس ٹیم کی ذمے داری تھی کہ ڈرائیونگ لائسنس برانچ اوراس کے باہر غیر قانونی کاموں کو نہ صرف روکے بلکہ ان میں ملوث افسران و اہلکاروں کی رپورٹ بھی اعلیٰ حکام کو پیش کرے تاہم وہ اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہے ۔