تحفظ آئین پرسووزیراعظم قربان کرنے پڑے توکرینگےشرجیل میمن

خط لکھوانے کیلیے ڈیڑھ سال انتظارکریں،پریس کانفرنس،شیخ رشیدکی وڈیوبھی دکھائی گئی


Staff Reporter August 05, 2012
کراچی: صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں ۔ فوٹو ایکسپریس

وزیراطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ آئین کی حفاظت کیلیے اگرایک ہزاروزیراعظم بھی قربان کرناپڑے توگریزنہیں کریںگے، صدر کو حاصل استثنیٰ اگرکسی کوپسندنہیں تو وہ پارلیمنٹ سے ختم کرائے ،صدر کیخلاف سوئس عدالت کوخط لکھوانے والے مزیدڈیڑھ سال انتظارکریں،2008میں ججزبھی این آراوکی وجہ سے ہی بحال ہوئے تھے۔

ہفتے کونیوسندھ سیکریٹریٹ کراچی میں پیپلزلائرز فورم کے وکلاکے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوںنے کہا کہ ملک میں سپریم ادارہ صرف پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ ہی آئین بناتی ہے اورآئین میں ترمیم کااختیاربھی پارلیمنٹ کوہی ہے،این آراوسے سب سے زیادہ مستفیدججزاورشریف برادران ہوئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کو سب سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑاہے۔شرجیل میمن نے کہاکہ مشرف کی جانب سے فارغ کیے جانے والے ججزبھی این آراوکی بدولت ہی2008میں بحال ہوئے تھے۔

سپریم کورٹ کواین آر اوکے8ہزار مقدمات میں صرف ایک ہی شخص کے مقدمات نظرآتے ہیں جبکہ عدلیہ پرحملہ کرنے،کروڑ وں روپے کی بدعنوانی کرنے والوں، قتل، اغوا برائے تاوان اور ریپ کے مقدما ت میں ملوث افرادنظرنہیں آتے،پیپلز پارٹی کوآج تک عدلیہ سے انصاف نہیں ملا،ماضی میں شہیدذوالفقاربھٹوکو عدلیہ نے قتل کیااورجب بینظیربھٹو نے اپنی دونوں حکومتوںکوختم کرنے خلاف عدالت کادروازہ کھٹکھٹایا توانہیں انصاف نہیں ملالیکن جب نوازشریف نے اپنی حکومت کے خاتمے کیلیے عدالت سے رجوع کیاتو انہیں چنددنوں میں انصاف مل گیا۔

انھوں نے کہاکہ آئین بنانے والے پارلمینٹیرینزہیں اورآئین کی تشریح کاحق بھی پارلیمنٹیرینزکوہی حاصل ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتااورنہ کسی کویہ حق چھیننے دیںگے،آئین سے متصادم نظریہ ضرورت کی کسی بھی تشریح کونہیں مانتے اورنظریہ ضرورت کے تحت آمرکوباوردی صدرماننے والوںکوبھی تسلیم نہیںکرتے۔انھوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے بلندآوازمیں کہہ دیاہے کہ قانون سب کیلیے برابرہے،جب سوپی سی اوججز گھرجاسکتے ہیں توپھرایک کیوں اب تک بیٹھاہے ؟

انھوں نے کہاکہ نواز شریف میں خود لڑنے کی ہمت نہیں ہے اسی لیے وہ ہمیشہ اداروں کے پیچھے رہ کرلڑتے ہیں،نواز شریف عدلیہ کے منظور نظر ہیں اسی لیے ان کے مقدمات کی سماعت نہیں ہوتے،انہیں سپریم کورٹ کے ہر فیصلے کا علم ہوتاہے،اب عوامی فیصلے صرف عوام کریںگے،پی سی اوججزنہیں۔یہ عوام کاسوال ہے کہ جب نوازشریف اپنے دور اقتدارمیں چیئرمین نیب سیف الرحمان کے ہوتے ہوئے سوئس مقدمات میں کچھ نہیں کرسکے توپھر دیگر لوگ اتنے بے تاب کیوں ہیں ؟

عوام یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ارسلان افتخارکروڑوں روپے کے مالک کیسے بنے ؟تحقیقات کیوں روک دی گئی۔پریس کانفرنس کے دوران شرجیل انعام میمن نے شیخ رشیدکی وہ وڈیو دکھائی جس میں شیخ رشیدکاکہنا تھا کہ چوہدری افتخارسیانے شخص ہیں میرے پاس لال ہویلی کے باہردو دو گھنٹے انتظار کرتے رہتے تھے ہم چیف جسٹس تلاش کررہے تھے میں نے انہیں چوہدری برادران سے ملایاوہ چیف جسٹس بن گئے پھروہ بھاری شخصیات کے ساتھ چلے گئے جبکہ شرجیل انعام میمن نے اس موقع پرنوازشریف کی بھی وہ وڈیو دکھائی جس میں مسلم لیگ(ن)کے تمام رہنماچیف جسٹس سید سجاد علی شاہ پر حملہ کر رہے ہیں۔