لاہورہائیکورٹ نیپراکووزارت بجلی کےما تحت کرنیکا نوٹیفکیشن معطل

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد رولزآف بزنس کی حیثیت محض ڈاکخانے جتنی ہے، عدالت


News Agencies/Numainda Express October 19, 2017
صاف پانی کمپنیوں میں بے ضابطگیوں کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت برہم، پنجاب حکومت نے سماعت روکنے کیلیے رٹ دائرکردی فوٹو: فائل

لاہور ہائیکورٹ نے نیپرا کو وزارت بجلی کے ماتحت کرنے کا کیبنٹ ڈویژن کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔ چیف جسٹس منصور علی شاہ نے جہانگیر ترین کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے قراردیا کہ عدالت کے حکم امتناع کے باوجود ریگولیٹری اتھارٹیز کو وزارت کے ماتحت کرنا غیر قانونی ہے۔

درخواست گزارکے وکیل مصطفی شیرپاؤ نے موقف اپنایا کہ نیپرا ایکٹ میں ترامیم کے لیے مشترکہ مفادات کونسل کی باضابطہ منظوری آئین کا تقاضہ ہے تاہم مشترکہ مفادات کونسل کے 31ویں اجلاس میں پنجاب اور بلوچستان کے وزرائے اعلی کی عدم موجودگی کے باوجود سفارشات کو غیرآئینی طور پر منظور کر کے نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ نیپرا کو وزارت کے ماتحت نہیں کیا گیا، صرف انتظامی کنٹرول کابینہ ڈویژن سے لے کر نئی وزارت کو دیا گیا ہے۔ عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کابینہ اجتماعی سوچ کا نام ہے، کسی فرد واحد کا نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی رولز آف بزنس کی حیثیت ڈاک خانے جتنی لگتی ہے ۔

عدالت نے مزید سماعت 8 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو تحریری جواب داخل کرانے کی آخری مہلت دے دی۔ آن لائن کے مطابق جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے صاف پانی کمپنیوں میں ہونے والی بے ضابطگیوں کیخلاف درخواست میں کمپنیوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ سرکاری وکیل جب رپورٹ پیش کریں گے تو سماعت آگے بڑھے گی، عدالت کے فیصلے پر اعتراض ہے تو سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں، ایک طرف نعرہ لگایا جا رہا ہے کہ ہم ایک روپے کا حساب دینے کو تیار ہیں۔

رپورٹ پیش کرنے میں کوئی مسئلہ ہے تو بتا دیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے دائر درخواست کا پہلے فیصلہ کر دیں، پھر رپورٹ پیش کر دیں گے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عدالت کو سومو ٹو لینے کا اختیار نہیں، دوران سماعت پنجاب حکومت نے کیس کی سماعت روکنے کے لیے متفرق درخواست دائر کردی جس پر عدالت نے سماعت سات روز تک ملتوی کر دی۔

مقبول خبریں