ہیڈ کانسٹیبلز کی ترقیوں سے متعلق درخواست پر نوٹس جاری

20سال سے فرائض انجام دے رہے ہیں،کارکردگی ریکارڈ پر ہے،اے ایس آئی کی اسامی پر ترقی نہیں دی جارہی، درخواست گزار.


Staff Reporter March 02, 2013
صوبے میں جنگلات کی زمین لیز پر دینے کے خلاف درخواست پر چیف سیکریٹری سمیت دیگر کونوٹس جاری ، جواب بھی طلب۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے سندھ پولیس کے ہیڈ کانسٹیبلوں کو اے ایس آئی کی اسامی پر ترقی دینے کے متعلق درخواست پر چیف سیکریٹری ، آئی جی اور ہوم سیکریٹری کو نوٹس جاری کردیے۔

عبدالرزاق سمیت متعدد ہیڈکانسٹیبلوں نے ارشد جدون ایڈووکیٹ کے توسط سے موقف اختیارکیا ہے کہ وہ 20سال سے محکمہ پولیس میں فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کی کارکردگی ریکارڈ پر ہے لیکن مدعا علیہان انہیں اگلے عہدے اے ایس آئی کی اسامی پر ترقی نہیں دے رہے جبکہ درخواست گزار اے ایس آئی کی اسامی کیلیے مطلوبہ تعلیم انٹرمیڈیٹ کے بھی حامل ہیں۔

ارشدجدون ایڈووکیٹ کے مطابق درخواست گزاروں کو مدعاعلیہان کی جانب سے یہ کہہ کر خاموش کرادیا جاتا تھا کہ پولیس آرڈر 2002کے تحت اے ایس آئی کی اسامی پر تقرری پبلک سروس کمیشن کے توسط سے کی جاتی تھی لیکن گذشتہ سال نومبر میں محکمہ پولیس کی جانب سے اے ایس آئی کی اسامیوں پر براہ راست بھرتی کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں جو متعلقہ ڈی آئی جیز کے دفاتر میں وصول کی گئیں اور امیدواروں کے انٹرویو ہوئے، درخواست گزاروں نے موقف اختیارکیا کہ اس صورتحال میں اے ایس آئی کی اسامی پر ترقی انکا ترجیحی حق ہے اس لیے انھیں ہیڈکانسٹیبل سے اے ایس آئی کی اسامی پر تقرری دی جائے کیونکہ یہ ان کا بنیادی حق ہے۔

جسٹس فیصل عرب اور جسٹس نثار اے شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواست گزاروں کے وکیل کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مدعا علیہان کو نوٹس جاری کردیے، علاوہ ازیں سندھ ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے محکمہ جنگلات کی اراضی غیرقانونی طور پر لیز اوردرختوں کی کٹائی کے خلاف دائردرخواست پرچیف سیکریٹری،سیکریٹری جنگلات،سیکریٹری بلدیات،سیکریٹری ماحولیات،سیکریٹری خزانہ،سینئرممبربورڈ آف ریونیواور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

9

درخواست گزار رانا فیض الحسن نے درخواست میں موقف اختیارکیا ہے کہ سرسبز درختوں کی کٹائی کی وجہ سے ملک میں ماحولیاتی آلودگی بڑھ رہی ہے،گزشتہ 20برس میں ملک میں ایک تہائی کے قریب جنگلات کا رقبہ ختم ہوچکا ہے، جنگلات میں کمی، موسمی تغیرات اورسیلاب کا باعث بن رہی ہے، درخواست گزار کے مطابق عالمی معیار کے مطابق ملک کا25فیصدحصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صرف4 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ 1980تک سندھ میں ساڑھے 6 لاکھ ایکڑ اراضی پردرخت موجود تھے جن کی تعداد اب محض چند ہزار ایکڑ رہ گئی ہے،درختوں کی کمی کے باعث سیلاب سے بدترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا،مختلف رپورٹس مین تسلیم کیا گیا ہے کہ وزیرجنگلات نے اپنے اختیارات کا ناجائزاستعمال کرتے ہوئے جنگلات کی اراضی کو لیز پر دینا شروع کردیا ہے۔اراضی کی بندربانٹ کی جارہی ہے،محکمہ جنگلات میں غیر قانونی تقرریوں کا بھی سلسلہ جاری ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاکھوں ایکڑ اراضی کی غیر قانونی لیز کو منسوخ کیا جائے اور1985سے اب تک دی گئی اراضی کی تفصیلات طلب کی جائیں۔