بلدیہ عظمیٰ کے اسپتالوں میں پرائیویٹ وارڈز قائم کرنے پر غور

مقصد اسپتالوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہے، جس سے غریب اور مستحق مریضوںکا مفت علاج کیا جاسکے گا، ہاشم رضا.


Staff Reporter March 04, 2013
مقصد اسپتالوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہے، جس سے غریب اور مستحق مریضوںکا مفت علاج کیا جاسکے گا، ہاشم رضا. فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر سید ہاشم رضا زیدی نے کہا ہے کہ بلدیہ کے بڑے اسپتالوں میں علیحدہ پرائیوٹ وارڈز قائم کرنے پر غورکیا جارہاہے تاکہ اسپتالوں کی آمدنی میںخاطر خواہ اضافہ ہوسکے جس سے غریب اور مستحق مریضوںکا مفت علاج کیا جاسکے۔

عباسی شہید اسپتال کے 8 کروڑ روپے کے 4 منصوبوں آپریشن تھیٹر،سرجیکل وارڈ،نرسنگ اسکول اور ڈاکٹروں کی رہائش گاہ کوفوری مکمل کیا جائے، یہ بات انھوں نے گذشتہ روزبلدیہ کے اسپتالوں کی کارکردگی ، وسائل، ادویات اورخوراک کی فراہمی اوردیگر مسائل سے متعلق اسپتالوںکے سربراہان کے ساتھ منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اجلاس میں کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسرڈاکٹر وقارکاظمی، عباسی شہید اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ندیم راجپوت ، کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈائزیزکے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر سراج الحق،چیف انجینئر الیکٹریکل طارق انصاری سمیت اسپتالوںکے نمائندوں اورمختلف افسران نے شرکت کی۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی سیدہاشم رضا زیدی نے کہا کہ اسپتالوں سے متعلق شکایات کو فوری دورکیا جانا ضروری ہے جبکہ مریضوں کیلیے ادویات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، انھوں نے کہاکہ اسپتالوںکے تمام سربراہان فوری تجویز دیں کہ اسپتالوںکی کارکردگی کو بہتر بنانے اور وسائل کو بڑھانے اور مریضوں کے بہتر علاج کے سلسلے میںکیا پیش رفت کی جاسکتی ہے۔

5

انھوں نے کہا کہ پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تحت بھی اسپتالوں کو چلایاجا سکتاہے جبکہ شہر کے مخیر حضرات سے بھی غریب مریضوں کے علاج معالجے کے سلسلے میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے اسپتالوں کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ اسپتالوںکے اخراجات کا 30 فیصد اپنی مدد آپ کے تحت پوراکریں تاکہ بلدیہ عظمیٰ پر اخراجات کا بوجھ کم ہوسکے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ 25سال سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اسپتالوں میں جو فیس لی جاتی ہے ان میں اضافہ کیاجانا ضروری ہے، اس موقع پر پرنسپل کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر وقار کاظمی نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو بتایا کہ کالج کو یونیوسٹی کا درجہ دینے کا کام آخری مراحل میں ہے جس سے کالج اپنی مدد آپ کے تحت اپنے اخراجات پوراکرسکے گا اور کراچی کے میڈیکل کے طالب علموں کو بہتر تعلیمی سہولتیں میسر آئیں گی۔