صدر وزیراعظم وزیر اعلیٰ کا اظہار مذمت شہدا کیلیے معاوضوں کا اعلان

شہدا کے ورثاکیلیے15لاکھ روپے فی کس اور ہر زخمی کو10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان


Staff Reporter March 04, 2013
وزیراعظم کاگورنر اوروزیراعلیٰ سے فون پر رابطہ، شہدا کے ورثاکیلیے15لاکھ روپے فی کس اور ہر زخمی کو10 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان. فوٹ فائل

صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم راجا پرویز اشرف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سانحہ کراچی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ذمے داروں کیخلاف سخت ترین کارروائی کرنے، شہدا کے ورثا کیلیے معاوضے کا اعلان اور زخمیوں کو ہر ممکن علاج کی سہولتیں دینے کے احکام جاری کیے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے عباس ٹاؤن میں بم دھماکوں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی شدید الفاظ میںمذمت کی ہے اور حکومت سندھ کو ہدایت جاری کی ہے کہ کراچی میں قیام امن کے لیے سخت ترین اقدامات کیے جائیں، عوام کی جان ومال کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ صدر مملکت نے اتوار کو وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انھیں ہدایت کی کہ سانحے میں شہید افراد کے ورثا کی ہر ممکن کفالت کی جائے اور زخمیوں کو بہترین علاج ومعالجے کی سہولت فراہم کی جائے۔ صدر نے مزید ہدایت کی کہ کراچی میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعظم راجا پرویزاشرف نے بم دھماکوں کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے حکومت سندھ سے فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی اور کراچی میں اپنی تمام مصروفیات ترک کردیں۔ وزیراعظم راجہ پرویزاشرف سے اتوار کو گورنر ہاؤس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں گورنر سندھ نے وزیراعظم کو کراچی میں امن وامان کی صورت حال خصوصاً عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی قیام امن کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیںگے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت پرعزم ہے اور حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

وزیراعظم نے عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے دھماکوں میں شہید افراد کے ورثاکیلیے15لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کے لیے فی کس10، 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اتوار کو آئی جی سندھ فیاض لغاری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ۔ آئی جی سندھ نے وزیراعلیٰ سندھ کو عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکوں کی صورت حال پر آگاہ کیا ۔

6

وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ کراچی میں قیام امن کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور اس سانحے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی ہاشم رضا زیدی سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ہدایت کی کہ عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکوں کے بعد ریسکیوو ریلیف کے انتظامات کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے اور اس حوالے سے ہر قسم کے وسائل استعمال کیے جائیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری صحت ڈاکٹر سریش کمار سے بھی رابطہ کیا اور انہیں بھی ہدایت کی کہ اس سانحہ میں زخمی ہونے والے افراد کو ہر ممکن طبی سہولتیں فراہم کی جائیں ۔

عباس ٹائون دھماکے کے بعد گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے اپنی تمام مصروفیات منسوخ کردیں ۔ وزیر اعظم راجا پرویز اور گورنر سندھ متعلقہ اداروں سے رابطے میں رہے اورامدادی کاموں کی نگرانی کرتے رہے ۔علاوہ ازیں صدر آصف علی زرداری نے گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کو ٹیلی فون کیا ۔گورنر سندھ نے صدر مملکت کو عباس ٹاون میں ہونے والے دھماکوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ صدر نے ہدایت کی اس سانحہ ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے ۔

دریں اثناء گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت امن وامان کے حوالے سے اہم اجلاس گورنر ہاوس میں اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں آئی جی سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکوں کی ابتدائی رپورٹ پیش کی اور جائے وقوع سے ایک مشکوک شخص کو حراست میں لیے جانے اور امن وامان پر بریفنگ دی۔گورنرسندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔