دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو

بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ملک قانون کی حکمرانی کی منزل سے دور ہے۔


Editorial March 04, 2013
مختلف سیاسی مفادات رکھنے والی انتہا پسند تنظیموں کی معرکہ آرائیوں نے دہشت گردی کے ایک عذاب کی شکل اختیار کی ہے۔ فوٹو: رائٹرز

دہشت گردی کے عفریت نے کوئٹہ اور بلوچستان کے وسیع تر تناظر میں غالباً انتباہ دے دیا ہے کہ وہ بربادی اور انسانی ہلاکتوں کی ہولناک وارداتوں کے بعد اتوار کی شام کراچی کو بھی ٹارگٹ بنالے گا ،چنانچہ وہی ہوا ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے محو خواب تھے یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا تھے کہ دہشت گردوں نے شہر قائد کو پھر سے خون میں نہلا دیا۔

اس مرتبہ بھی کم وبیش کوئٹہ طرز کی وحشیانہ حکمت عملی اختیار کی گئی اور کئی کلو وزنی بارود ایک کار میں چھا کررکھا تھا جب کہ حسب سابق کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے یا انٹیلی جنس حکام کو اس کی خبر تک نہ ہوئی اور ایک دم کراچی میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 45افراد جاں بحق اور150 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دھماکا ابوالحسن اصفہانی روڈ پر اس عباس ٹائون کے سامنے اقرا سٹی میں ہوا جہاں پہلے بھی حملے ہوچکے ہیں ، ایک سینئر تجزیہ نگار نے اس علاقے اور اس سے ملحقہ سہراب گوٹھ کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ''چھوٹی سی دنیا'' قراردیا ہے۔

اور اس سانحہ کے پس منظر میں دردانگیز سماجی صورتحال کی عکاسی کی ہے۔تاہم بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ملک قانون کی حکمرانی کی منزل سے دور ہے ، مختلف سیاسی مفادات رکھنے والی انتہا پسند تنظیموں کی معرکہ آرائیوں نے دہشت گردی کے ایک عذاب کی شکل اختیار کی ہے جس سے نمٹنے کے لیے ایک طرف قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے لازم ہے کہ وہ دہشت گردی کے انسداد کے لیے پے در پے ناکامی کی تصویر بننے کے بجائے ایک جنگی حکمت عملی کے تحت اپنے داخلی دشمنوں سے لڑنے کی تیاری کرلیں ۔ بات وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کے ان انتباہات سے کہ ''کراچی یا دیگر شہروں میں دہشت گردی کی بڑی واردات ہونے والی ہے،پہلے بتا رہا ہوں '' سے بہت آگے جانے کی ہے ۔

دہشت گرد متوازی قوت بن چکے ہیں، ان عناصر کو کچلنے لیے فوج، پولیس،رینجرز،ایف سی اور انٹیلی جنس اداروں کے پاس دہشت گردوں کو ملیا میٹ کرنے کی طاقت موجود ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اسے کب استعمال کیا جائے گا۔ ہم ان ہی سطور میں بار ہا یہ یاد دلاتے رہے ہیں کہ کرا چی ملک کا معاشی حب ہے، پاکستان کا دھڑکتا دل اور اس کی اقتصادی شہ رگ ہے، دشمن جانتا ہے کہ اس پر مسلسل حملوں کا مطلب (خاکم بہ دہن)سقوط پاکستان ہے۔ اسی کو ٹارگٹ کرتے ہوئے وہ ملک میں دہشت گردی کا الائو سلگا رہے ہیں۔ اہل اقتدار کو تسلیم کرنا چاہیے کہ باہمی سیاسی اختلافات،تنائو ، کشیدگی کے نتیجے میں دہشت گردانہ ،فرقہ وارانہ ، لسانی اور مسلکی قوتوں کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور وہ جی بھر کر کھیل رہے ہیں۔


کیا یہ تکلیف دہ حقیقت نہیں کہ کراچی میں بم دھماکے ہوئے ، خونریزی اور ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری نے زندگی عذاب بنادی لیکن کراچی پولیس کے سربراہ اہل خانہ کے ہمراہ کینیڈا چلے گئے جب کہ ضرورت ان کی کراچی میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمہ میں پولیس کو فعال رکھنے اوردہشت گردوں کے خلاف آل آئوٹ وار کی تھی ۔مگر جب ملکی اور قومی مفاد پر ذاتی مفاد ، عارضی سکون اور بیرون ملک سیرو تفریح کو ترجیح دی جائے گی تو شہر میں رقص ابلیس نہیں ہوگا اور لوگ بم دھماکوں سے ہلاک نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوگا۔

اب بھی وقت ہے حکمراں پاکستان کے وجود سے لپٹے سازشوں کے اژدھوں کا سر کچلنے کی سوچیں،وطن عزیز عاقبت نااندیشی اور دہشت گردی کامقابلہ کرنے کی غیر موثر حکمت عملی کے باعث انارکی کی لپیٹ میں ہے،دہشت گردی ناسور ہے اور وہ صرف کراچی اور کوئٹہ کے سانحات تک محدود نہیں،فاٹا میں بھی آگ لگائی جارہی ہے، سیکیورٹی فورسز نے اورکزئی اور خیبر ایجنسی کے مختلف علاقوں میں آپریشن کرکے17 مشتبہ عسکریت پسندوں کو ہلاک اور ان کی 3 پناہ گاہوں کو تباہ کیا، اپراورکزئی ایجنسی میں جیٹ طیاروں کی بمباری میں 10 عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ۔

خیبر ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 7 مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ ایک ہفتے کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 40 عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں ، باجوڑ ایجنسی میں تباہی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا گیا، پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں آج صبح 6 بجے سے غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ رہے گا۔ اس دوران تمام لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں، خلاف ورزی کرنے والوں کو گولی بھی ماری جاسکتی ہے۔یہ مادر وطن پاکستان کی آج کی صورتحال ہے۔ بلوچستان کی آزادی کی عالمی کانفرنسیں بلائی جارہی ہیں۔

لندن کے رائل سوسائٹی میں مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں ریفرنڈم کیا جائے۔ادھر کراچی کے سچل تھانہ کے ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ دھماکا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے موٹرسائیکل میں نصب بم سے ہوا جس میں ڈیڑھ سو کلو تک بارود استعمال کیا گیا تھا ، دوسرا دھماکا گاڑی کا سلنڈر پھٹنے سے ہوا، بم دھماکے کے بعد ابوالحسن اصفہانی روڈ کا متاثرہ حصہ ایک جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کررہا تھا ۔سپریم کورٹ کوئٹہ بم دھماکوں اور کراچی میں بد امنی کے روک تھام کے حوالے سے فریاد جیسے لب ولہجے میں استفسار کرتی رہی ہے کہ اتنا وزنی بارود کس طرح شہر کی سڑکوں پر سفر کرتا ہوا ہدف تک پہنچا ۔

لیکن افسوس قانون نافذ کرنے والے حکام سپریم کورٹ کو مناسب جواب نہیں دے سکے۔ دوسری طرف منشیات ، عصمت فروشی اور سٹے کے اڈوں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے جرائم پر قابو پانے میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہورہی بلکہ دہشت گردی کی ہر واردات تشویش ناک سوالات پیدا کرتی ہے تاہم کسی کے پاس اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہوتا۔اور یہی سب سے بڑا المیہ ہے۔ کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ ایک طرف دو ہولناک دھماکے ہوتے ہیں ،ہلاکتیں ہوتی ہیں مگر ٹارگٹ کلرز اس میں بھی فائرنگ کے مختلف واقعات میں پولیس اہلکاروں سمیت 11افراد کو ہلاک اور 2 بچوں سمیت 12زخمی کرکے فرار ہوجاتے ہیں۔

آئی جی سندھ فرماتے ہیں کہ حالات طالبان یا تیسری قوت خراب کررہی ہے،وفاقی وزیر داخلہ ان وارداتوں میں کبھی لشکر جھنگوی،سپاہ صحابہ، طالبان ، بی ایل اے، اور غیر ملکی قوتوں کا ہاتھ دیکھتے ہیں اور کبھی صرف وارننگ دے کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔ کاش ریاستی مشینری کے حکم پر کوئی آہنی ہاتھ ان دشمن قوتوں کے خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کرنے کے لیے حرکت میں آئے، وہ بندوقیں اور بم خاموش اور بارود کے ڈھیر ہوا میں تحلیل ہوجائیں جو اہل وطن سے ان کی زندگیوں کا خراج لے رہے ہیں۔

یہ قتل وغارت بند ہونی چاہیے۔یہ جمہوریت کے آخری دورانیے کا سب سے اہم چیلنج ہے۔ امن ہوگا تو انتخابی عمل شفاف اور ہر قسم کے تشدد سے پاک ہوگا لیکن ارباب اختیار اگر اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اسلحہ اور بارود سے لیس داخلی و خارجی دشمن انتخابات پر اثرانداز نہیں ہوںگے ،وہ شاید زمینی حقائق سے ماورا کسی خلائی سیارے میں سکونت پذیر ہیں۔انھیں حقائق کا سامنا کرنے کے لیے جلد میدان عمل میں اترنا ہوگا۔