معمر خاتون ماڈل کالونی سحر سلطانہ کی تدفین مورو میں ہوئی
ایک بہن جاں بحق اور دوسری شدید زخمی ہوئی، متوفیہ سحر کے بھائی عارف رضا کی بات چیت
سانحہ عباس ٹائون بم دھماکے میں جاں بحق معمر خاتون کو ماڈل کالونی قبرستان جبکہ سرسید یونیورسٹی کی طالبہ سحر سلطانہ کو آبائی علاقے مورو میں سپرد خاک کردیا گیا ۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کی شام سچل تھانے کی حدود میں ابوالحسن اصفہانی روڈ عباس ٹائون میں اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی درمیانی سڑک پر خوفناک بم دھماکے کے نتیجے میں اقرا سٹی کے فلیٹ نمبر D-203کی رہائشی معمر خاتون بدرمنیر زوجہ زبیر وارثی کی نماز جنازہ جعفر طیار میں ادا کی گئی جبکہ ان کی تدفین ماڈل کالونی قبرستان میں آہوں اور سسکیوں میں ہوئی۔ متوفیہ بدر منیر کے صاحبزادے ضیا الدین نے ایکسپریس سیکو بتایا کہ دھماکے میں ان کی والدہ شدید زخمی ہو گئیں تھیں جنھیں پہلے نجی اسپتال لے جایا گیا، بعدازاں فاطمید اسپتال منتقل کیا گیا جہاںوہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔

ضیا الدین نے بتایا کہ ان کی والدہ ان کے اور ایک بھائی کے ہمراہ اقرا سٹی کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھیں۔ مرحومہ کے بیٹے نے بتایا کہ بم دھماکے سے ان کا فلیٹ مکمل طور پر تباہ اور گھر کا سارا سامان برباد ہو گیا ہے۔ میںخود کئی سال قبل ایک حادثے کے نتیجے معذور ہو گیا تھا اور سہارا لیکر چلتا ہوں اس معذوری کی وجہ سے کوئی فلیٹ تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ جس فلیٹ میں وہ ابھی بیٹھے ہیں، یہ انھیں کسی شخص نے عارضی طور پر سر چھپانے کے لیے دیا ہے۔
دوسری جانب دھماکے میں جاں بحق سر سید یونیورسٹی کی طالبہ سحر سلطانہ کو ان کے آبائی شہر مورو میں واقع آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ سحر سطانہ کے بھائی عارف رضا نے بتایا کہ دھماکے میں ان کی ایک بہن جاں بحق جبکہ دوسری شدید زخمی ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دھماکے سے قبل میری بہن سحر سلطانہ پیسے مانگ رہیں تھیں، میں نے کہا کہ واپس آکر دیتا ہوں لیکن بدقسمتی سے میں اپنی بہن کو پیسے نہ دے سکا۔