بھارت میں بے اولاد جوڑے نے اپنی جائیداد بندر کے نام کردی

سابیستا اور برجیش نامی جوڑے نے بندر کو گود لیا اور اس کی دھوم دھام سے شادی بھی کی


ویب ڈیسک February 19, 2015
سابیستا کے مطابق بندر کے اس جوڑے کو چائنز کھانے، چائے اور آم کا جوس پسند ہے، فوٹو:فائل

PESHAWAR: اولاد سے محرومی کے بعد اکثر لوگ کسی نہ کسی بچےکو گود لے لیتے ہیں اور اولاد کی کمی کو کسی حد تک دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بھارت میں اولاد سے محروم ایک جوڑے نے کسی بچے کو نہیں بلکہ ایک بندر کو گود لے لیا اور اپنی ساری جائیداد بھی اس کے نام لکھ دی۔

بھارتی اخبار کے مطابق سابیستا اور بریجیش شری واستو نامی جوڑے نے چند سال قبل پسند کی شادی کی تھی جس کی وجہ سے انہیں خاندان سے نکال دیا گیا، اس وقت وقت دونوں انتہائی غریب تھے لیکن بعد میں دونوں نے اپنی محنت کے بل پرغربت سے خوش حالی تک کا سفر طے کیا جبکہ شادی کے بعد انہیں اولاد بھی نہیں ہوئی جس پر انہوں نے 2004 میں ایک بندر کو گود لیا لیکن اس کی موت واقع ہوگی مگر انہوں نے ایک بار پھر 2005 میں ''چن من'' نامی بندر کو گود لیا جسے انہوں نے اپنے بیٹے کی طرح پالنا شروع کردیا۔

سابیستا اور برجیش نے اپنے بندر چن من کی 2010 میں بڑی دھوم دھام سے شادی بھی کی اور انہوں نے اسے ایک خوبصورت سجا ہوا ایئر کنڈیشنڈ کمرا دے رکھا ہے جس میں یہ بندراپنی بیوی ''بٹی'' کے ساتھ شاہانہ زندگی گزار رہا ہے، بندر کے اس جوڑے کی شادی کی ہرسال سالگرہ بھی منائی جاتی ہے جس میں سیکڑوں مہمانوں کے ساتھ کئی بندروں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ سابیستا کے مطابق بندر کے اس جوڑے کو چائنز کھانے، چائے اور آم کا جوس پسند ہے۔

سابستا کا کہنا ہے کہ جب سے چن من ان کی زندگی میں آیا ہے وہ دولت مند ہوگئے ہیں اور یہ صرف چن من کی وجہ سے ہوا ہے، چن من اور اس کی بیوی بٹی ہی ہماری اولاد ہیں اور یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد بھی ان کی بھرپور دیکھ بھال کی جائے اسی لیے انہوں نے ان بندروں کے لیے ایک ٹرسٹ قائم کرلیا ہے جو ان کی ساری جائیداد کی نہ صرف دیکھ بھال کرے گا بلکہ ان کی تمام جائیداد کا مالک ''چن من'' ہی ہوگا۔

بھارتی اخبار کے مطابق چن من نامی بندر کی عمر اس وقت 10 سال ہے لیکن عام طور پر بندر 35 سے 40 سال تک زندہ رہتے ہیں اس لیے جوڑے کی جانب سے یہ نصیحت کی گئی ہے کہ اگر یہ بندر انتقال کر جاتے ہیں تو پھر ان کی ساری دولت دیگر بندروں کی دیکھ بھال اور ان کی حفاظت کے لیے استعمال کی جائے۔