تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی

اوریا مقبول جان  جمعرات 1 دسمبر 2016
theharferaz@yahoo.com

[email protected]

کیوبا کے فیڈل کاسترو کو اگر اردو سے شناسائی ہوتی اور شاعری سے تھوڑی سی دلچسپی بھی ہوتی تو وہ اپنی تقریروں میں اقبال کا یہ شعر ضرور پڑھتا

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر

مغربی جمہوری نظام کے سامنے سینہ سپر یہ شخص وہ تھا جس نے اس گلے سڑے، بدبو دار آئینی‘ جمہوری نظام کے مقابلے میں گوریلا جدوجہد اختیار کی اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوری آئینی قوت امریکا کے مقابلے میں فتح حاصل کی۔ اس زمانے میں پورے کا پورا مغربی نظام اور میڈیا امریکی اشیرباد سے قائم فوجی یا جمہوری آمریتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد نہیں بلکہ شرپسند یا باغی گوریلوں کا نام دیتا تھا۔ امریکا کے پڑوس میں جتنے بھی ملک ہیں خواہ وہ چلی ہو یا بولیویا، نکاراگوا ہو یا کیوبا سب نے شرپسند گوریلوں کے خلاف عالمی، مغربی جمہوری یلغار کا مزا چکھا ہے۔

شرپسندوں کے خلاف آپریشن کا لفظ اسی زمانے میں میڈیا کی زینت بنا جب کمیونسٹ گوریلوں کی پناہ گاہوں پر ان ملکوں کے امریکی پٹھو حکمران، امریکی ساختہ جہازوں اور ہیلی کاپٹروں سے بم برسایا کرتے۔ امریکا میں جنوبی امریکا کے ممالک کی فوجوں کو شرپسند گوریلوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے ایک علیحدہ ملٹری اکیڈمی قائم کی گئی تھی جسے School of Americas کہتے تھے۔

اس اکیڈمی کو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بند کردیا گیا تھا کہ اب امریکا کو انسانوں کا خون بہانے کے لیے ایک دوسرا خطہ چاہیے تھا اوردوسرا نظریہ بھی۔ اس اسکول میں گوریلا لیڈروں کو پکڑ کر اذیتیں دینے اور ان پر بہیمانہ تشدد کرنے کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔ اس تشدد اور اذیت دینے کے طریقوں کا مینوئل سی آئی اے نے تیار کیا تھا۔ اسی دور میں ’’لاپتہ افراد‘‘ کی اصطلاح ایجاد ہوئی۔ امریکی انتظامیہ کی سرپرستی میں امریکی فوجی امداد سے ان ملکوں میں جو افواج تھیں وہ قومی مفاد اور نیشنل سیکیورٹی کے نام پر کمیونسٹ نظریات رکھنے والے یا گوریلا جدوجہد کے ہمدرد لوگوں کو اٹھا کر لے جاتے اور پھر ان کے گھروالے ان گم شدہ افراد کی تصویریں لیے سڑکوں پر گھومتے، آہ و بکا کرتے نظر آتے۔ نہ کوئی عدالت اور نہ ہی مقدمہ، بچہ مرجائے تو ماں باپ کو دفن کرکے صبر آجاتا ہے لیکن یہاں تو اتہ پتہ ہی معلوم نہ ہوتا۔ کوئی ملک ایسا نہ تھا جس نے امریکی جمہوری نظام کے تحت دنیا کو کمیونزم سے نجات دلانے کے ان ہتھکنڈوں کی اذیت نہ برداشت کی ہو۔

کس قدر تعجب کی بات ہے کہ فیڈل کاسترو نے قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب کمیونسٹ خیالات سے اپنی وابستگی اختیار کی تو اس نے سب سے پہلے اپنی جدوجہد کو مغرب کی بنائی گئی ان قومی ریاستوں کی لکیروں کا انکار کرتے ہوئے‘ اپنے ملک کیوبا کے بجائے وہ ایک اور ملک ڈومونیکین ری پبلک میں امریکی جمہوری حکومت کی مدد سے قائم رافیل ٹوروجیلو Rafael Trujillo کی جمہوری آمریت کے خلاف گوریلا جدوجہد میں حصہ لیا۔ ٹوروجیلو کو امریکا نے فوج کی مدد سے ایک الیکشن جتوایا تھا۔

پہلے اس نے 1916 میں اس ملک پر قبضہ کیا۔ پھر اپنی مرضی کا آئین تحریر کیا، مرضی کی فوج بنائی اور عوام کو ٹوروجیلو کی حکومت عطا کی جو جمہوری طور پر ننانوے فیصد ووٹ لے کر آئی تھی۔ فیڈل کاسترو اس جمہوری حکومت کے مخالف گوریلوں کے ہمراہ مسلح جدوجہد میں شریک ہوا۔ شرپسند کہلانے والے یہ کمیونسٹ گوریلے بم دھماکے بھی کرتے اور قتل و غارت بھی۔ کاسترو 1947ء میں ان کا ساتھی بنا اور اس نے گوریلا جنگ کے تمام رموز دیکھے۔ اس نے ایک بغاوت میں حصہ لیا جوکچل دی گئی۔ کاسترو تھوڑا دلبرداشتہ ہوا لیکن وہ ایک دوسرے ملک کولمبیا چلا گیا تاکہ وہاں جاکر حکومت کے خلاف جدوجہد میں شریک ہوجائے۔

یہ الگ بات ہے کہ اس کے جانے کے بعد 30 مئی 1961ء کو صدر ٹوروجیلو کو ایک حملے میں قتل کردیا گیا۔ ادھر کاسترو اپنے وطن کیوبا لوٹا تو وہاں کے آئینی جمہوری نظام میں شریک ہونے کے لیے اس نے ایک اینٹی کمیونسٹ پارٹی پارٹیو ڈو آرتھو ڈوکسو میں شمولیت اختیار کرلی۔ یہ پارٹی 1948ء کے کیوبا کے الیکشن ہارگئی۔ کاسترو کو اندازہ ہوا کہ کس طرح کرپشن، بددیانتی اور غیر قانونی ہتھکنڈوں سے آئینی اور جمہوری حکومتیں کام کرتی ہیں۔ اس نے حکومتی کرپشن اور اس گھسے پٹے نظام کو جمہوری طریقے سے بدلنے کی کوشش شروع کی۔ وہ 1952ء میں ہونے والے انتخابات میں کیوبا کی کانگریس کے لیے امیدوار تھا کہ مارچ 1952ء میں جنرل فل گینیو باٹسٹا نے تختہ الٹا اور الیکشن منسوخ کردیے۔

اب کاسترو کو یقین ہوچکا تھا کہ تبدیلی جمہوری طریقے سے ممکن ہی نہیں۔ اس نے گوریلا جدوجہد کا آغاز کیا۔ وہ پورے ملک میں ایک شرپسند گوریلے کی حیثیت سے جانا جانے لگا۔ اس نے اپنے 150 ساتھیوں سمیت 26 جولائی 1953ء کو مونکیڈا Moncada کی چھاؤنی پر حملہ کیا لیکن ناکام رہا اور پکڑا گیا۔ اسے 19 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ بائیس ماہ بعد وہ کانگریس کی جانب سے دی گئی عام معافی کے نتیجے میں رہا ہوا اور ملک چھوڑ کر سیدھا میکسیکو چلا گیا اور گوریلا جنگ کے ذریعے انقلاب کی جدوجہد میں مصروف ہوگیا۔ یہیں اس کی ملاقات ارجنٹائن کے مشہور گوریلا لیڈر چہیہ گیویرا سے ہوئی۔ وہ بھی اپنے ملک کو چھوڑ کر ملکوں ملکوں گوریلا جنگ کے ذریعے انقلاب لانے کے لیے نکلا ہوا تھا۔ اس نے کاسترو کے گروہ میں شمولیت اختیار کرلی۔ دونوں کا نظریہ تھا کہ جنوبی امریکا کے غریب عوام کی قسمت آئینی جمہوریت سے نہیں بلکہ ایک خونی انقلاب سے بدلی جاسکتی ہے۔

دسمبر 1956ء کی دو تاریخ کو فیڈل کاسٹرو ایک کشتی میں بہت سارا اسلحہ اور 60 لوگوں کو لے کر کیوبا کے فینزائیلو ساحل کے پاس پہنچے لیکن باٹسٹا کی افواج نے ان پر حملہ کردیا۔ خوش قسمتی سے کاسترو، چہیہ گیویرا اور اس کا بھائی راول بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ دو سال بعد 1958ء میں کاسترو کے گوریلوں نے کیوبا میں پولیس ہیڈکوارٹرز، فوجی چھاؤنیوں اور سرکاری تنصیبات پر پے در پے حملے شروع کیے۔ فوج اور پولیس سے لوگ نوکریاں چھوڑ کر اس سے ملتے رہے اور پھر ایک سال بعد جنوری 1959ء میں وہ کیوبا پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ باٹسٹا ڈومونیکین ری پبلک بھاگ گیا۔ کاسترو کی عمر 32 سال تھی۔ ایک عارضی حکومت قائم ہوئی، کاسترو نے فوج کے سربراہ کی کمان سنبھالی۔ کارڈونا Cardona کو عارضی طور پر وزیراعظم بنایا گیا۔ صرف ایک ماہ بعد یعنی فروری میں اس نے استعفیٰ دے دیا اور کاسترو نے وزیراعظم کا حلف اٹھالیا۔ باٹسٹا کی فوجی حکومت اور گزشتہ جمہوری حکومت کے ہزاروں عہدیداروں پر مقدمے چلے اور ان کو قتل کردیا گیا۔

اس کے بعد فیڈل کاسترو کا دور حکومت شروع ہوتا ہے جسے سامراج اور امریکا کے مقابلے میں ایک علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی موت پر ہر کوئی اسے ایک عظیم ہیرو کے طور پر پیش کررہا ہے۔ سوچتا ہوں اگر فیڈل کاسترو اور چہیہ گیویرا مسلمان ہوتے، اپنے ملک چھوڑ کر افغانستان، عراق یا کشمیر میں لڑنے جاتے، اپنے ملکوں میں فوجی چھاؤنیوں پر حملے کرتے، دوسرے ملکوں میں جاکر وہاں کے لوگوں سے مل کے حکومت کے ٹھکانے برباد کرتے، اپنے ملک کے لوگوں پر اپنی مرضی کا نظام زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کرتے اور وہ نظام کمیونزم نہیں اسلام ہوتا توکیا میرے دانشور، ادیب اور تبصرہ نگار ان کو ہیرو کہتے ۔ ان کے لیے ان کی ذہن کی کتابوں میں گھڑے ہوئے وہی لفظ موجود ہوتے، دہشت گرد، دقیانوس، فرسودہ نظام کے حامی، ترقی کے دشمن، ان کی موت پر خوشیاں منائی جاتیں، انھیں جہنم رسید کے القابات سے یاد کیا جاتا

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو مرے نامہ سیاہ میں تھی



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔