US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
انگریز چونکہ گھوڑے کو انسان سے ذرا اونچا مقام دیتے تھے، اس لیے محکمہ ’’انسداد بے رحمی حیوانات ‘‘ بنایا گیا
مولانا ظفرعلی خان اپنے اخبار زمیندار میں بہت طویل ادارئیے لکھا کرتے تھے
درم ودام اپنے پاس کہاں چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں
رنا والہاں دے پکن پروٹھے تے چھڑیاں دی آگ نہ پلے
در ہوا چند معلق زئی جوجلوہ گنی اے کبوتر نگراں باش کہ شاہیں آمد
ایوب خان کی ولولہ انگیز قیادت کا بابرکت، باحرکت اور بے ہمت زمانہ تھا
اس سامنے پنکھے کو دیکھ رہے ہو ہاں کیا ہے اس میں
جن لوگوں کو اردو کے’’اہل زبان‘‘ کہا جاتا ہے وہ بھی چند نسلیں قبل اور زبان کے تھے۔
اخباروں میں ہم اکثر ایسے دانا دانشوروں فیلسوف کے بیانات نگارشات اور کالمات پڑھتے رہتے ہیں
ارے زمین پھٹ کیوں نہیں گئی، اے آسمان تم ریزہ ریزہ ہو کر گرے کیوں نہیں