صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
عمران کرکٹ اسٹیڈیم۔ کیا ذہنیت ہے، کیا شرافت ہے کیا انسانیت ہے بلکہ کیا ڈھٹائی ہے۔
ساقی سبھی کو ہے غم تشنہ لبی مگر مے ہے اسی کی نام پہ جس کے اُبل پڑے
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے
یہ خوشی بھی کچھ کم نہیں ہے کہ اپنی برادری والوں کا تو کچھ بھلا ہوجائے گا
جو قسمت تھی وہ قسمت دیکھ لی میں نے قیامت سے بہت پہلے قیامت دیکھ لی میں نے
اب تہیہ کرلیا کہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ اب نہ امید سے ہوں گے نہ کسی بام کی ہوس پالیں گے
دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل نہ کھڑے ہوجیے اس شخص دل آزار کے پاس
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا
جنھیں ہم ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینیوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں
پھرآہستہ آہستہ تعویذ بھی لکھتے تھے ، لوگ آتے اوربچوں بلکہ بڑوں کی بیماریوں کے لیے یہ پرچ پیالے لکھواتے تھے