US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
مولانا خان رشید جب دارالعلوم دیوبند سے فاضل ہوکر اپنے گاؤں آیا تو اس کا ارادہ یہ ہر گز نہیں تھا کہ وہ دین کو ذریعہ روزگار بنائے گا۔
تنظیم کے بارے میں پوچھا جاتا تو مسکرا کرکہتے ، بہت جلد دیکھ لوگے جب سرخ انقلاب آئے گا
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
تیری آنکھوں میں کئی رنگ جھلکتے دیکھے سادگی ہے کہ چھچک ہے کہ حیا ہے کیا ہے
طاقتور راجہ وشوامتر شکار کو نکلاتھا کہ اس کا گزر ایک آشرم کے سامنے سے ہوا، یہاں کے پروہت ایک برہمن رشی وسیشٹھ نے راجہ کی زبردست مہمان نوازی کی
براول بانڈہ پہنچے توپتہ چلا کہ ہمارا پروف ریڈر وہاں کا تحصیلدارہے
زراعت کار کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ اسے کاشت کے لیے کسی ایک جگہ زمین سے وابستگی ضروری ہوتی ہے
اس تک آتی ہے توہرچیز ٹھہرجاتی ہے جیسے پانا ہی اس اصل میں مرجانا ہے
ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے پر تجھ سی تو کوئی شے نہیں ہے
پہ ہر سہ کے نندارہ د ھغہ مخ کڑم چہ لہ ڈیرے پیدایی نہ ناپدید شہ