US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا کہ میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیے
یہ خوشی بھی کچھ کم نہیں ہے کہ اپنی برادری والوں کا تو کچھ بھلا ہوجائے گا
جو قسمت تھی وہ قسمت دیکھ لی میں نے قیامت سے بہت پہلے قیامت دیکھ لی میں نے
اب تہیہ کرلیا کہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ اب نہ امید سے ہوں گے نہ کسی بام کی ہوس پالیں گے
دہن شیر میں جا بیٹھے لیکن اے دل نہ کھڑے ہوجیے اس شخص دل آزار کے پاس
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا
جنھیں ہم ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینیوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل کے مکینوں میں
پھرآہستہ آہستہ تعویذ بھی لکھتے تھے ، لوگ آتے اوربچوں بلکہ بڑوں کی بیماریوں کے لیے یہ پرچ پیالے لکھواتے تھے
امور مملکت خویش خسرواں دانند گدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
سب کی باراتیں آئیں میری بھی تم لانا دلہن بنا کے مجھے اپنے گھر لے جانا