صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
میلہ لگا تھا مصر کے بازار کی طرح میں بک رہا تھا یوسفِ لا چار کی طرح
کوئی امکان پسِ در نہیں رکھا میں نے اپنے رہنے کے لیے گھر نہیں رکھا میں نے
دل و جاں کی بازی بھی غارت گئی مری ساری محنت اکارت گئی
تنزلی پہ یہ اپنا نصیب لگتا ہے مجھے تو اُس سے بچھڑنا قریب لگتا ہے
وہ بونوں میں کھڑا خود کو بہت اونچا سمجھتا ہے وگرنہ اس کا جتنا قد ہے ہر بندہ سمجھتا ہے
احمریں عارض و لب، چشم سیہ، بال سیاہ زیب دیتے ہیں یہ دو رنگ تجھے لال، سیاہ
پیرہن جو کم دیا ہے مجھ کو میرے ناپ سے اس پہ کیا میرا گلہ بنتا نہیں کچھ آپ سے
یہ نالہ تب دلِ عشّاق سے نکلتا ہے چراغ بجھ کے دھواں طاق سے نکلتا ہے
چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہے کہ اس لیے بھی تو کچھ اندھیرا چھٹا ہوا ہے
کچھ یوں گزر ے بارہ مہینے۔۔۔