غزل
چراغ آندھی کے سامنے جو ڈٹا ہوا ہے
کہ اس لیے بھی تو کچھ اندھیرا چھٹا ہوا ہے
جو مجھ پہ تہمت لگا رہے ہیں انہیں بتاؤ
کہ میرا کرتہ تو پیٹھ پر سے پھٹا ہو ہے
میں اس کو منزل پہ لے کے جانے کا سوچتا ہوں
وہ کارواں جو کہ اپنی رہ سے ہٹا ہوا ہے
وہ چاہتے ہیں کہ ان کو دستار سونپ دیں ہم
وہ جن کے شانوں سے سر تو پہلے کٹا ہوا ہے
تمہاری چالوں سے ہار جانے کا غم نہیں ہے
تمہارے طعنوں سے دل ہمارا پھٹا ہوا ہے
غبار سورج کو ڈھانپ لے گا تو کیا کرو گے
یہ گرد روکو کہ جس سے منظر اٹا ہوا ہے
ہمارے اپنے عدو کی صف میں کھڑے ہیں ارشدؔ
ہمارا لشکر یوں وسوسوں میں بٹا ہوا ہے
(ارشد محمود ارشد۔ سرگودھا)
غزل
سارے اندر کے ڈرنکل آئیں
گر تمنا کے پر نکل آئیں
عین ممکن ہے ِدل کی بستی میں
بے گھروں کے بھی گھر نکل آئیں
کیا بنے گا خدا کی مجلس میں
قدسیوں میں بشر ِنکل آئیں
قافلہ جا رہا ہے الفت کا
لے کے رختِ سفر نکل آئیں
اپنے اطراف دیکھیے شاید
منزلیں ہم سفر ِنکل آئیں
آگے آسانیوں کی منزل ہے
مشکلوں سے اگرنکل آئیں
پھر تو قطرہ بھی آپ قلزم ؔہو
آنکھ میں گر بھنورنکل آئیں
(سجیل قلزم۔ فیصل آباد)
غزل
جب خزاں کا سرد نشّہ سر پہ چڑھ جاتا ہے دوست
شاخِ جاں سے آخری پتہ بھی جھڑ جاتا ہے دوست
رو بھی پڑتا ہے مجھے وہ دکھ میں ہنستا دیکھ کر
پھر بھی وہ رکتا نہیں ہے آگے بڑھ جاتا ہے دوست
ہانپتا اور کانپتا اٹھتا ہوں میں اک خواب سے
خوف کا سایہ میرے پیچھے ہی پڑ جاتا ہے دوست
پھیلنے والی ہے ہر سو صبحِ نو کی روشنی
تُو یہ کیسے وقت پر مجھ سے بچھڑ جاتا ہے دوست
کب مرے قابو میں آیا خوف کا وحشی فرَس
روند کر مجھ کو مرے سینے پہ چڑھ جاتا ہے دوست
تم نے کب دیکھا ہے کب جھیلا ہے صدمہ ہجر کا
آدمی کی ہڈیوں سے ماس جھڑ جاتا ہے دوست
عشق کے ناٹک میں سچ مچ عشق لاحق ہوگیا
جیسے جوگی کو اچانک سانپ لڑ جاتا ہے دوست
(ازبرسفیر۔پھلروان)
غزل
پیغامِ شوق بھیجا ہے کس نے صبا کے ہاتھ
کرنوں کو راستہ دیا کس نے ہٹا کے ہاتھ
اندھے کو آنکھیں مل گئیں حیران ہو گیا
آنکھوں کو اس کی چھو جو گئے دلربا کے ہاتھ
نقش و نگار کیسے ہیں مجھ سے نہ پوچھیے
مجھ کو بنا رہے ہیں ابھی تو خدا کے ہاتھ
وحشت مرے وجود میں ناچی تو دوستو
بھیجا تھا اس حسین کو بوسہ ہوا کے ہاتھ
مجھ سے چھڑا کے ہاتھ گئی تھی خوشی خوشی
تھامے نہیں کسی نے بھی اس بیوفا کے ہاتھ
ہیں ان کی دسترس میں نہایت عظیم لوگ
احمد ؔبڑے دلیر ہیں دیکھو قضا کے ہاتھ
(احمد حجازی۔ لیاقت پور)
غزل
ورائے شام کئی رتجگوں میں ہوتا ہے
اداسیوں کا سفر قافلوں میں ہوتا ہے
میں دیکھتا ہوں سبھی مخمصوں کو حیرت سے
گمانِ عکس کئی آئینوں میں ہوتا ہے
کوئی تو ہے جو بھلاتا ہے نقشِ منزل کو
مجھے گمان یہی راستوں میں ہوتا ہے
دبا دیا تھا پسِ لاشعور حیرت کو
مرا شمار مرے قاتلوں میں ہوتا ہے
یہی تفاوتِ ارضی مری مثلث کے
جو سچ کہوں تو سبھی زاویوں میں ہوتا ہے
کبھی تو لکھے گا مجھ کو کوئی مقدر میں
کہ میرا ذکر ابھی راویوں میں ہوتا ہے
(سید فیض الحسن فیضی کاظمی۔ پاکپتن)
غزل
سکوتِ شب میں عجب ایک داستاں جاگی
ہوا چلی تو بدن میں کوئی زباں جاگی
حصارِ ذات سے باہر نکل پڑے دونوں
زمین گھوم گئی، گردشِ جہاں جاگی
جو بات کھل نہ سکی تھی تمام عمر مِرے
وہ ایک بوسے سے دونوں کے درمیاں جاگی
وصالِ شب کا کرشمہ تھا یا بدن کی طلب
مرے وجود میں اک لذتِ نہاں جاگی
جنیدؔ وصل کی اس رات کا اثر یہ تھا
جو سو گئی تھی وہ تقدیرِ رائیگاں جاگی
(سید جنید مضطرب ۔فیصل آباد)
غزل
خاک اڑتی رہی، رقص ہوتا رہا
یاد آتی رہی، دل مچلتا رہا
بسملان محبت کی کیا بات ہے
چوٹ کھاتے رہے، جی بہلتا رہا
ہم کو مدہوش رکھا نظر نے تری
جام بھرتے رہے، دور چلتا رہا
ہم کو آل نبی سے محبت رہی
نام لیتے رہے ، کام ہوتا رہا
حسن ہے رزق چشم شکستہ دلاں
پھر بھی زریابؔ کا دل شکستہ رہا
(علی زریاب۔ گوجرانوالہ)
غزل
کسی فقیر کے گم گشتہ حال کی مانند
مرا وجود ہے ٹھہرے خیال کی مانند
مرے ضمیر میں چھائی ہوئی ہے ویرانی
ہر ایک سانس میں اٹکے ملال کی مانند
لبوں پہ قفل ہے، آنکھوں میں خوف کا پہرہ
چراغِ شام کے ٹوٹے جمال کی مانند
کوئی بھی پوچھنے آتا نہیں ہے مدت سے
میں بھی گزر رہا ہوں ماہ و سال کی مانند
پڑی ہیں کونے میں چپ چاپ ان گنت چیخیں
کسی کی خواہشِ رفتہ کے جال کی مانند
امیرِ شہر کی محفل میں روشنی ہے بہت
غریبِ شہر ہیں پھر بھی ہلال کی مانند
امیدِ وصل توانا نہ تھی، نہ ہے، نہ ہو گی
فراقِ یار ہے لازم زوال کی مانند
مری صداؤں نے ہر حال لوٹ آنا ہے
کہ ہے سکوت پسِ اشتعال کی مانند
وہ میرے نام پہ کرتا تھا فیصلے ایسے
میں دب گیا تھا خودی کے وبال کی مانند
نہ کوئی ہاتھ بڑھا، نا کوئی صدا آئی
میں رہ گیا ہوں کھلے احتمال کی مانند
فقط تلاش میں خود کی وسیم ؔابنِ خلیل
میں جل رہا ہوں مسلسل سوال کی مانند
(وسیم اشعر ۔شجاع آباد، ملتان)
غزل
بیٹھا ہے ہم نشیں کوئی پھولوں کی تاب میں
کتنا حسین شخص ہے للہ نقاب میں
پردوں سے چھپ سکے گی بھلا چاند کی ضیا
صورت تری چمکتی ہے دل کی کتاب میں
تعبیر پوری ہو اے خدا میرے خواب کی
بے خوف مل رہا ہے رگِ جان خواب میں
رندوں کی سجدہ گاہ ترے شہر کی زمیں
کل شیخ کہہ رہا تھا یہ جوشِ خطاب میں
حیراں ہے میری سوچ پہ کاتب کی عقل بھی
الٹا سوال لکھ دیا میں نے جواب میں
(طلحہ بن زاہد۔ اوکاڑہ)
غزل
یاد تیری آ رہی ہے بے خبر او بے خبر
رات بیتی جا رہی ہے بے خبر او بے خبر
لگ گئی یادوں کی دیمک رفتہ رفتہ ہجر میں
اب یہ دیمک کھا رہی ہے بے خبر او بے خبر
دل کے آنگن میں تمہارے نام کا اک پھول ہے
مجھ کو جو مہکا رہا ہے بے خبر او بے خبر
ادھ جلی لکڑی ہے کوئی یا تمہاری یاد ہے
کیوں مجھے تڑپا رہی ہے بے خبر او بے خبر
چودھویں کے چاند میں بھی اور گل تازہ میں بھی
تو جھلک دکھلا رہی ہے بے خبر او بے خبر
اک جفا نے پیار کو اپنے ہی رنگ میں رنگ لیا
رنگ جو دکھلا رہی ہے بے خبر او بے خبر
دل کے چولھے میں تمہاری اک ہنسی موجود ہے
جو مجھے سلگا رہی ہے بے خبر او بے خبر
(عامرمعان۔ کوئٹہ)
غزل
تو جو ہر لفظ سے فرعون ہوا چاہتا ہے
تاجِ نخوت ترا مٹی میں ملا چاہتا ہے
منتظر جس کے رہا کرتے ہیں سب اہل جمال
رات دن وہ ترے کوچے میں رہا چاہتا ہے
آخری سانسیں جو گنتا ہے مہکتا ہوا پل
دم آخر ترے دامن کی ہوا چاہتا ہے
کر چکا ہوش و خرد تیرے حوالے اپنے
اے غم ہجر! بتا اور تو کیا چاہتا ہے
منفرد زاویے ہیں اور سخن کے لیکن
میرا لہجہ ذرا انداز جدا چاہتا ہے
لشکر وقت پھر آتا ہے کمانیں کھینچے
پھر کوئی معرکۂ زیست ہوا چاہتا ہے
میں جو سو جاؤں تو کرتا ہے حفاظت میری
میرا ہمزاد مجھے مجھ سے سوا چاہتا ہے
چند لمحے ہی سہی لمس تمہارا مل جائے
اور کیا اس کے سوا برگ ِحنا چاہتا ہے
اذن مل جائے تو آنکھوں میں چمک آ جائے
نور نوابی فقط ساتھ ترا چاہتا ہے
(سید محمد نورالحسن نور۔ممبئی ،انڈیا)
غزل
نہ ہو جو آب تو فصلیں خراب ہوتی ہیں
بغیر دین کی نسلیں خراب ہوتی ہیں
جو بے حیا ہوں تو یہ بات اک حقیقت ہے
کہ ایسے لوگوں کی شکلیں خراب ہوتی ہیں
عجب نہیں ہے جو محنت کو چھوڑ دیتی ہیں
یہ بات سچ ہے وہ قومیں خراب ہوتی ہیں
گنوا رہے ہیں جو غفلت میں اپنی صبح کو
پھر ایسے لوگوں کی شامیں خراب ہوتی ہیں
(محبوب الرّحمان محبوب۔سینے،میاندم،سوات)
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی