صفحۂ اول
تازہ ترین
بجٹ
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
جمہوری نظام کی ساکھ کو سمجھنے کے لیے ہمیں بنیادی طور پر مقامی حکومتوں کی مضبوطی سے جڑے نظام کو سمجھنا ہوگا
ہمارے جیسے ملکوں میں انتخابی منشور ایک انتظامی نوعیت یا الیکشن کمیشن کی انتظامی ضرورت بن کر رہ گیا ہے
نئی نسل میں جو سیاسی و سماجی شعور بڑھا ہے اس میں ان کے سامنے ووٹ ڈالنے کے لیے ان روائتی مسائل کی کوئی اہمیت نہیں
جو بھی مفاہمت کی بات کرتا ہے تو اسے ایک سیاسی کمزوری کے طور پر دیکھا جاتا ہے یا مفاہمت کا مذاق اڑایا جاتا ہے
ہم محض سیاسی مسائل کا ہی شکار نہیں ہے بلکہ معیشت، سیکیورٹی ، گورننس کے معاملات بھی ہیں
اب لوگوں کو اپنی بات کرنے کے لیے رسمی میڈیا کی ضرورت نہیں رہی بلکہ انھوں نے متبادل میڈیا تلاش کرلیا ہے
سیاسی نظام کی خود مختاری اور شفافیت بنیادی مسئلہ ہے
ہمیں علاقائی ممالک بشمول بھارت سے کشیدگی کے مقابلے میں تعلقات کی بہتری کی طرف پیش رفت کرنا ہے
مایوسی گناہ ہے، مایوسی کا عمل ہمیں آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف دھکیلتا ہے
یہ مسائل کا حل تلاش کرنے اور ایک متبادل راستہ دینے میں اپنا کردار نبھاتی ہے