صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
سوشل میڈیا پر تنقید تو فرض عین سہی لیکن الیکڑانک میڈیا کا حال بھی دوپہر کے اخبارات سے کچھ الگ نہیں ہے۔
اس ملک کی خدمت لُٹو اور پُھٹو کے اصول کے تحت ’’حصہ بقدرے جثہ‘‘ سمجھ کے کی جارہی ہے۔
ڈاکٹرعبدالکلام، جو اخبار فروش سے ملک کا صدر بن گیا لیکن کبھی عاجزی نہ چھوڑسکا۔
جو کام حکومت وقت کو خود کرنا چاہیے تھا وہ عدلیہ کو کرنا پڑا۔ کیا یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟
ہر کوئی اپنے لفظوں کا پاس رکھنے کے لیے وہ دوسرے کی غلطیوں کی نشاندہی کرنے سے بھی گریزاں ہے۔
کوشش کیجیے کہ نفس کو صبر کرنے اور برداشت کرنے کا عادی بنائیں کہ یہی رمضان کا اصل درس ہے۔
بھارت ہمارے دلوں میں اپنی ثقافت کو ہوادے رہا ہے اور ہم اس کاشت کو اپنے ہاتھوں سے کھاد اور پانی دے رہے ہیں۔
جن عالمی تنظیموں نے سوکی کو انعامات سے نوازا کیا اُن کو مکمل خاشوشی اختیار کرنے پر یہ اعزازت واپس نہیں لے لینے چاہیں؟
پریشانی یہ ہے کہ کسے غدار کہیں اور کسے حب الوطنی کی سند عطا کریں؟
سخت ترین حالات کے باوجود پاکستانی قوم ہرگز بھی گمنامی کے اندھیروں میں گم ہونے والی نہیں ہے۔