نئے کارپوریٹ گورننس رولز جاری سرکاری کمپنیوں میں سیاسی مداخلت روکی جاسکے گی

پبلک سیکٹرانٹرپرائزز کی کارکردگی بہتر اورنقصان میں کمی آئے گی، سرکاری اداروں میں اصلاحی عمل تکمیل...، وفاقی وزیر خزانہ


Numainda Express March 09, 2013
نئے قواعد نوٹیفکیشن کے بعد 90 دن میں لاگو، تمام کمپنیوں میں 2 سال کے اندر خود مختار ڈائریکٹرز 40 فیصد ہوجائینگے، محمدعلی/معین فدا، تقریب سے خطاب۔ فوٹو : اے پی پی / فائل

وفاقی وزیرخزانہ سلیم مانڈوی ولا نے کہا ہے کہ پبلک سیکٹر میں چلنے والی کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس کے نئے رولز نافذ ہونے سے ان داروں کی کارکردگی بہتر ہوگئی اور پبلک سیکٹر کمپنیوں میں ہونے والے نقصانات میںخاطرخواہ کمی واقع ہوگئی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو سرکاری شعبے کی کمپنیوں کیلیے کارپوریٹ گورننس رولز 2013 پر دستخط اور اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ایس ای سی پی کے چیئرمین محمد علی، اکنامک ریفارم یونٹ کے ڈائریکٹرجنرل اور ٹاسک فورس کے کنوینرڈاکٹر حسن نجیب، ٹیکنیکل کمیٹی کے سربراہ اسد علی شاہ، کنٹری ڈائریکٹر سی آئی پی ای معین فدا ، وزارت خزانہ اور ایس ای سی پی کے دیگر حکام نے شرکت کی۔

وفاقی وزیرخزانہ سلیم مانڈوی والانے کہا کہ حکومت نے پبلک سیکٹر اداروں میں اصلاحات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اب وہ تکمیل کے مراحل میں ہے، کابینہ کی کمیٹی برائے ری اسٹرکچرنگ کی سفارشات پرزیادہ ترقومی اداروں میں آزاد اور خود مختار بورڈ آف ڈائریکٹرز تعینات کردیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کابینہ کی کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں پبلک سیکٹر کمپنیوں میں انتظامی اموربہتربنانے اورشفافیت کے قیام کے لیے کارپوریٹ گورننس رولز تشکیل دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی رولز ان اداروں میں سیاسی مداخلت اور عمل دخل کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

وزیر خزانہ نے چیئرمین ایس ای سی پی اور ڈی جی اکنامک ریفارم یونٹ کو ہدایت کی کہ وہ نئے گورننس رولز کے نفاذ اور عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیں۔ ایس ای سی پی کے چیئرمین محمد علی نے کہا کہ حکومت کے زیر سرپرستی چلنے والے اداروں اور کارپوریشنز میں اصلاحات متعارف کرانے کے راستے میںسب سے اہم رکاوٹ یہ ہے کہ حکومتی ادارے، کارپوریشنز، کمپنیاں مختلف قوانین کے تحت قائم کی گئی ہیں اور انکو مختلف قوانین کے تحت چلایا جاتا ہے، ان قوانین میں ہم آہنگی پیداکرنے کی ضرورت ہے تا کہ تمام اداروں کومسابقت کی فضا میسرہو اور ان اداروںمیں اصلاحات کو متعارف کرایا جا سکے۔

1

محمد علی نے کہا کہ نئے گورننس رولزکا نوٹیفکیشن ہونے کے2 سال کے اندر حکومت کے زیراہتمام تمام کمپنیوں میں خودمختار ڈائریکٹرز کی تعداد 40فیصد اور 4سال بعد خود مختار ڈائریکٹرزکی تعداد 50 فیصد سے زائد کر دی جائے گی، نئے قوائد کے مطابق کوئی بھی شخص ایک وقت میں 5 سے زائد کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ممبر نہیں ہو سکتا، تمام پبلک سیکٹرکمپنیوںمیں انٹرنل آڈٹ کاسسٹم متعارف کرایاجائے گا۔ اس موقع پر سینٹر فار انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹرپرائزیز (سی آئی پی ای) کے کنٹری ڈائریکٹر معین فدا نے کہا کہ ٹاسک فورس نے تمام شراکت داروں کی مشاورت کے ساتھ کارپوریٹ گورننس کے نئے رولز کو تیار کیا جس کے لیے اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں سیمینار منعقد کیے گئے۔

انھوں نے کہا ٹاسک فورس نے پبلک سیکٹر کمپنیوں کیلیے کارپوریٹ گورنس رولز 2013 کو ایس ای سی پی کے پالیسی بورڈ کی منظوری کے لیے بھیجا، پالیسی بورڈ نے منظور کرنے کے بعد نئے قواعد کو وفاقی حکومت کی منظوری کے لیے وزارت قانون کو بھجوا دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے 90 دن کے بعد نئے قواعد و ضوابط نافذ العمل ہو جائیںگے، گورننس کے نئے رولزایسی تمام کمپنیوںپر لاگوہوںگے جن میں حکومت پاکستان 50 فیصد یا اس سے زائد شیئرز کی مالک ہے۔

اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہاکہ گردشی قرضہ سے نجات اور سرکاری شعبے کی کمپنیوں کی کارکردگی پائیدار بنیادوں پر بہتر بنانے کیلیے آئندہ حکومت کیلیے ایک جامع روڈ میپ چھوڑ کر جائینگے، موجودہ حکومت نے ملکی معاشی صورت حال بہتر بنانے کیلیے موثر و منظم اورتاریخی اقدامات کیے۔ انہوں نے پی آئی اے کو 100 ارب روپے فراہم کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کو حکومت کی طرف سے طیاروں کی خریداری کیلیے 4 کروڑ 60 لاکھ روپے فراہم کیے ہیں۔