نیب کرپشن روکنے کے بجائے تحفظ دے رہاہے سپریم کورٹ

آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس لاگو نہیں کیا جاسکتا، پٹرولیم لیوی کیخلاف درخواست پرنوٹس جاری.


Numainda Express March 14, 2013
فوٹو فائل

سپریم کورٹ نے اوگرا عملدرآمد کیس میں گواہوں کو حراساں کرنے کے مقدمے کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیب کرپشن روکنے کے بجائے اسے تحفظ دے رہا ہے۔

ڈیڑھ 2 لاکھ کی کرپشن کے ملزم پکڑ لیے جاتے ہیں اور بڑوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ڈی جی نیب راولپنڈ ی عدالت کے حکم کے باوجودپیش نہیں ہوئے جس پرعدالت نے برہمی کا اظہار کیا، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ ڈی جی نیب اپنے بیٹے کی گریجویشن تقریب میں شرکت کیلیے برطانیہ گئے ہیں اور 2 ہفتے میں واپسی ہوگی۔



 

جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کہ اہم کیس ہے، اتنا طویل التوا ممکن نہیں، ڈی جی نیب 25مارچ تک پیش ہوں۔جسٹس جوادکا کہنا تھا کہ اگر گواہوں کوخراش بھی آئی تو ساری بات نیب پر آئیگی۔جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ نیب کرپشن روکنے کے بجائے تحفظ دینے کیلیے کام کررہا ہے۔

جسٹس جواد نے کہا کہ ایک لاکھ 60 ہزارکی کرپشن کا معاملہ توفوری حل ہو جاتا ہے بڑی کرپشن کے کیس حل نہیں ہو رہے۔سپریم کورٹ نے پٹرولیم لیوی کیخلاف پٹیشن میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ جسٹس جواد نے آبزرویشن دی اس کیس میں آرٹیکل77کی تشریح کرنا ہوگی۔ فاضل جج نے کہا بادی النظر میں آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس لاگو نہیں کیا جا سکتا، مزید سماعت 26 مارچ کو ہوگی۔