بادی النظر میں صوبہ کمیشن بنانے کا اختیار غیر قانونی طور پر دیا گیا لاہور ہائیکورٹ

کمیشن بنانے کا اختیار اسپیکرکے پاس ہے نہ صدر ایسا کرسکتے ہیں، دیکھیں گے کہ یہ اختیار کس نے دیا، جسٹس خالد


Numainda Express March 16, 2013
کمیشن قانون کے مطابق بنا ،11 جولائی کواسمبلی نے اجازت دی:ڈپٹی اٹارنی جنرل ،اس روز کوئی قرار داداسمبلی کے سامنے نہیں تھی،اظہر صدیق فوٹو: فائل

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے صوبہ جنوبی پنجاب کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران قراردیا ہے کہ بادی النظر میں لگتا ہے کہ کمیشن بنانے کا اختیار غیر قانونی طور پر دیا گیا، یہ اختیار نہ تواسپیکرکے پاس اورنہ ہی صدر پاکستان ایسا کر سکتے ہیں۔

عدالت دیکھنا چاہے گی کہ کمیشن بنانے کااختیار کس نے دیا، آئین کے تحت صدر کو پیغام دینے کا اختیار تو ہے مگر کمیشن بنانے کا اختیار نہیں۔ فاضل جج نے قومی اسمبلی کی 11جولائی 2012ء کی قرارداد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 2 اپریل تک ملتوی کر دی۔ جمعے کوعدالت میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نسیم کشمیری نے کیس کی سماعت شروع ہونے کے فوراٌ بعد اعتراض اُٹھایا کہ قومی اسمبلی کی معیادکل ختم ہونے والی ہے اور نئے صوبوں کے متعلق آئین میں ترمیم اب نہیں ہوسکتی۔

لہذا یہ درخواست غیرموثرہوگئی ہے اِس لیے اِس کو خارج کیا جائے۔ اس پر اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست میں نئے صوبوں کے متعلق بنائے جانیوالے کمیشن،رولزاوراُس کی رپورٹ کو چیلنج کیا ہے، یا تو حکومت پاکستان عدالت میں یہ بیان دے کہ یہ رپورٹ ختم ہوچکی ہے اِس پر کبھی بھی عملدرآمدنہیں ہوگا تو اِس بیان پر ہم یہ آئینی درخواست واپس لے لیتے ہیں۔اے پی پی کے مطابق عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں کمیشن کے قیام کا مقصداور ہے۔



مگر اسکی رپورٹ کچھ اور کہہ رہی ہے، 3 مئی کی قرار داد میں تو کمیشن کے قیام کا ذکر ہی نہیں۔نمائندہ ایکسپریس کے مطابق عدالت نے مزید ریمارکس دیئے کہ آئین 1973 کے تحت صدر کوپارلیمنٹ پر فوقیت حاصل نہیں، صدر آئین کے آرٹیکل 90 اور 91 کے تحت وفاق کا حصہ ہیں۔صدر یا وزیر اعظم کو پارلیمنٹ کے اختیارات سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ آئندہ کیس کی سماعت 2 اپریل کو ہوگی۔نمائندہ ایکسپریس کے مطابق فاضل جج نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استسفار کیا کہ کیا صوبوں کے متعلق بنائے گئے کمیشن وغیرہ کے بارے میں آپ ایسا بیان دینے کے لیے تیار ہیں اِس پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ ہم ایساکوئی بیان نہیں دینگے ۔

اظہر صدیق ایڈوکویٹ نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کو کمیشن بنانے کا اختیار تو حاصل ہے مگر یہ اختیار پارلیمنٹ کے پاس نہیں، اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ 11 جولائی کو کوئی قرار دادقومی اسمبلی کے سامنے نہیں تھی یہ بیان بدنیتی پر مبنی ہے حتیٰ کہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سیکریٹری نے 4 مارچ 2013؁ء کو جو عدالت میں رپورٹ داخل کی ہے اُس میں اِس ساری کارروائی کو خفیہ یعنی یہ قومی اسمبلی کی اندرونی کارروائی ہے عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا۔