حج اسکینڈلراؤ شکیل عہدے کی شرائط پرپورا نہیں اترتا تفتیشی افسر

تقرری کرنیوالی اتھارٹی وزیراعظم ہے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نہیں،وسیم سجاد، سماعت ملتوی


Numainda Express March 16, 2013
تقرری کرنیوالی اتھارٹی وزیراعظم ہے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نہیں،وسیم سجاد، سماعت ملتوی فوٹو: فائل

حج اسکینڈل کیس کے تفتیشی افسرحسین اصغر نے سپریم کورٹ کوبتایا ہے کہ کسی شخص کوبھی ڈی جی حج کے عہدے کی تین شرائط کومدنظررکھا جاتا تو سابق ڈی جی حج راؤ شکیل ان شرائط پر پورا نہیں اترتا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ عدالتی حکم کی وجہ سے ایف آئی اے کے کام میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت تفتیشی افسرحسین اصغرنے بتایا کہ راؤ شکیل کی تقرری کے وقت ریکارڈ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کوہی دیا گیا تھا۔ سابق سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اسماعیل قریشی کے وکیل وسیم سجاد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تقرری کرنے والی اتھارٹی وزیراعظم ہے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ نہیں۔ ڈی جی حج کا نام کئی مراحل سے گزر کراسماعیل قریشی تک پہنچا اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ متعلقہ افسر بھی غیر قانونی کام میں حصہ دارہوتا ہے۔



ہائیکورٹ ایک جوائنٹ سیکریٹری کے کیس میں آپ کا پیش کردہ مؤقف مستردکرچکی ہے۔ وسیم سجاد نے کہا کہ عدالت نے جن وجوہ کی بنیاد پرگرفتاری سے تحفظ دیا وہ اب بھی موجود ہیں۔جبکہ رائوشکیل کی تقرری کے حوالے سے ایف آئی اے اسماعیل قریشی کے خلاف تفتیش مکمل کرکے چا لان پیش کرچکا ہے اورقانون کے تحت جب چالان پیش ہوجائے اس وقت مزید تفتیش نہیں ہو سکتی۔اس کیس میں ایف آئی اے نے عدالتی حکم کے باوجود اسماعیل قریشی کوگرفتارکیا جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ تو پھر آپ توہین عدالت کی درخواست دائرکریں۔افسران جب وزیراعظم کے زبانی احکام پرخلاف قواعد تقرریاں کر دیتے ہیں تو پھرمقدمات کا سامنا کرنے کی جرات بھی پیداکریں ۔

چیف جسٹس نے کہاکہ اسماعیل قریشی کے خلاف زین سکھیرا کی خلاف قانون تقرری کی ایف آئی آر بھی تو درج ہے جس پر وسیم سجاد نے کہا کہ اس کی تفتیش ابھی شروع ہوئی ہے،کل ایف آئی اے نے ان کو موکل کو طلب کیا تھا اور ایک سوال نامہ ان کے حوالے کیا گیا جس کا وہ جواب دیں گے۔ کیس کی سماعت جاری تھی کہ وسیم سجاد نے کہاکہ ان کی ایک بجے لاہورکی فلائٹ ہے اس لیے سماعت 18مارچ تک ملتوی کردی جائے تاہم عدالت نے 18کی بجائے سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی۔