شفاف انتخابات اور ملکی مسائل

جب جمہوری حکومتیں قایم رہیں تب بھی ملکی انتظامی امور کو بہتر بنانے پر توجہ نہ دی گئی۔


Editorial August 07, 2012
طاقتور میڈیا اور آزاد الیکشن کمیشن کی موجودگی میں دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا, فوٹو اے پی پی

KARACHI: وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ حکومت آنی جانی چیز ہے، تمام مسائل کا واحد حل انتخابات ہیں جس میں بہت تھوڑا وقت باقی ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بروقت عام انتخابات کرانے کے وعدے پر قائم ہیں۔ ان کی جانب سے قوم سے یہ وعدہ بھی خوش آیند ہے کہ ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں گے، پیپلز پارٹی کے پاس الیکشن کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

وزیر اعظم ہائوس میں صحافیوں کو دیے گئے افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ طاقتور میڈیا اور آزاد الیکشن کمیشن کی موجودگی میں دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، آیندہ حکومت کے بارے میں صرف عوام فیصلہ کریں گے۔ ملک کی اب تک کی تاریخ اور اس عرصے میں اسے پہنچنے والے دھچکوں کو مدنظر رکھ کر سوچا جائے تو ایک یہی راستہ محفوظ اور مامون نظر آتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل ہی ہمارے مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔

اس حوالے سے اکثر بھارت کی مثال دی جاتی ہے جہاں جمہوریت تسلسل کے ساتھ چلتی رہی اور جس کا نتیجہ وہاں سیاسی استحکام کی شکل میں نظر آتا ہے' اس کے برعکس پاکستان میں آزادی کے بعد نصف سے زیادہ عرصے تک آمریت قائم رہی جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں کہ ہم نہ صرف معاشی لحاظ سے اقوام عالم سے پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ توانائی کے شدید ترین بحران کا بھی شکار ہیں جب کہ ہمیں اپنے سالانہ بجٹ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرضہ لینا پڑتا ہے یا پھر بیرونی امداد پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے۔

یہ دگرگوں حالات سامنے آنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آمرانہ ادوار میں ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط اور مستحکم بنانے پر بوجوہ توجہ نہ دی گئی لیکن جب یہاں جمہوری حکومتیں قائم رہیں تب بھی ملکی انتظامی نظام کو مستحکم بنیادیں فراہم کرنا ضروری خیال نہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جس ادارے' جس محکمے کے معاملات کو اٹھا کر دیکھیں وہاں کرپشن اور بدعنوانی نظر آئے گی یعنی یہاں برسراقتدار رہنے والی حکومتوں نے ملک کو اربوں ڈالر کا مقروض بنا دیا اور دلخواہ ترقی بھی نہ کی جا سکی۔

چنانچہ چیف جسٹس آف پاکستان کے یہ ریمارکس بالکل درست ہیں کہ بدعنوانی کے باعث پورا نظام تباہی کے دہانے پرکھڑا ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ملک میں بدعنوانی پھیلنے کا بنیادی سبب سبھی اداروں اور محکموں میں چیک اینڈ بیلنس کے نظام کا نہ ہونا بھی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظام میں خامیاں موجود ہیں' بہتری نہ آئی تو کرپشن موجود رہے گی، اگر 2012 میں 1912 کے سسٹم پر چلیں گے تو کرپشن تو ہو گی، ہمیں سب سے پہلے ہوائی باتیں چھوڑ کر نظام کو بہتر بنانا ہو گا۔

چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ اور آیندہ حکومتیں ملکی نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دیں کیونکہ جب نظام مستحکم ہو گا تو پھر سارے معاملات ٹھیک چلتے رہیں گے اور کوئی کرپشن کے بارے سوچ بھی نہ سکے گا' کرپشن ہمیشہ اس وقت ہوتی ہے جب کسی کو یہ علم ہو کہ اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ ہمارے ہاں اداروں کے ترقی نہ کرنے اور مختلف محکموں میں بدعنوانی پھیل جانے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہاں جو بھی نئی حکومت آتی ہے وہ سابق حکومت کے تمام اقدامات' پالیسیوں اور منصوبوں کو یکسر ختم کر کے اپنی پالیسیاں اور منصوبے شروع کر دیتی ہے اور ابھی یہ سلسلہ چل ہی رہا ہوتا ہے کہ اس حکومت کا وقت بھی ختم ہو جاتا ہے یا پھر ختم کر دیا جاتا ہے اور اس کے منصوبے بھی ادھورے رہ جاتے ہیں۔

گزشتہ چونسٹھ برسوں کے دوران جاری رہنے والے اس عمل نے ہمارے ملک کو مالی لحاظ سے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ بلاشبہ ہمارے ملک میں جمہوریت کی گاڑی کو کبھی ڈی ریل نہیں ہونا چاہیے لیکن ضروری ہے کہ عوام کی توقعات بھی پوری ہوں' ملک ترقی کرے اور اداروں کو استحکام ملے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں اور ایسے منصوبے تشکیل دیے جائیں جو تسلسل کے ساتھ چلتے رہیں اور جن کو ختم یا رول بیک کرنا کسی حکومت کے بس میں نہ ہو ' تبھی پورے وثوق کے ساتھ کہا جا سکے گا کہ ہاں یہاں جمہوریت ہے جس کے سائے میں ملک اور قوم دونوں ترقی کی نئی منزلوں سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔

ہمارے خیال میں ملک میں جمہوریت کے تسلسل کے لیے مقررہ وقفوں کے بعد عام انتخابات کا مسلسل انعقاد ضروری ہے۔ یہ بات خوش آیند ہے کہ موجودہ حکومت اس عزم کا بار بار اظہار کر رہی ہے کہ الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے۔ جہاں تک پارلیمنٹ' عدلیہ یا میڈیا کے آزاد اور خود مختار ہونے یا نہ ہونے کا سوال ہے تو ہمارے خیال میں آئین میں اس حوالے سے پیرامیٹرز موجود ہیں' اگر سبھی ادارے اور شعبے ان پیرامیٹرز کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے مابین ٹکرائو کی کوئی کیفیت پیدا ہو یا یہ تاثر قائم ہو کہ ریاست کے ستون ریاست اور اس کے عوام کی بہبود و ترقی پر توجہ دینے کے بجائے آپس میں الجھ رہے ہیں اور ایک دوسرے پر غلبہ اختیار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ضروری ہے کہ حکومت اس تاثر کو ختم کرنے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرے کہ سیٹ اپ' نظام اور ریاستی ستونوں کو کام کرنے دینے کی گنجائش اور سہولت فراہم کرنے کی سب سے زیادہ ذمے داری انتظامی معاملات کی نگران ہونے کی وجہ سے اسی پر عائد ہوتی ہے۔