ملکی اداروں کی عزت ہونی چاہیے فوج کے متعلق غلط باتوں سے امن نہیں آئیگا چیف جسٹس

سپریم کورٹ بمباری نہیںروک سکتی،صرف قانون پرکھتی ہے،ریمارکس،اڈیالہ جیل سےلاپتہ قیدیوں کیخلاف نئے مقدمات کی تفصیل طلب.


Numainda Express March 28, 2013
633 افراد لاپتہ، زندہ ہیں یا مردہ تصدیق نہیں ہوسکی، بازیابی کمیشن کی رپورٹ، عدالت کا عدم اطمینان، روزانہ3مقدمات سنیں گے، جسٹس جواد فوٹو فائل

KARACHI: سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے شورش زدہ علاقوں اور قبائلی علاقہ جات میں فوج کو حاصل اختیارات کے قانون کیخلاف پٹیشن کی سماعت3 اپریل تک ملتوی کر دی اور اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے قیدیوں کیخلاف نئے مقدمات کی تفصیل دوروزکے اندر پیش کرنیکا حکم دیا ہے۔

گزشتہ روزدرخواست گزار پروفیسر ابراہیم کے وکیل غلام نبی نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیزکی کتاب کا حوالہ دیا۔چیف جسٹس نے کہا شاہد عزیز خود اس جنگ کا حصہ رہے، پتہ نہیں ہم دنیا میں اپنی فوج کے بارے میںکیا تاثر دے رہے ہیں۔ فاضل وکیل نے کہا کہ فاٹا میں روزانہ بمباری کی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا سپریم کورٹ بمباری نہیں روک سکتی، صرف قانون پرکھتی ہے کہ وہ آئین کے مطابق ہے یا نہیں۔ فاضل وکیل کا کہنا تھا بلیک واٹر کے لوگوںکو ویزے جاری کیے گئے۔

اگر شنوائی نہیں ہوسکتی تو وہ درخواست واپس لیتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا عدالت فاٹا اور دیگر علاقوں میں شہریوںکے تحفظ کو ممکن بنائیگی۔ فاضل وکیل نے ڈرون حملوں سے ہلاک ہونیوالے افرادکی تصاویر پیش کیں جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ معاملہ ہمارے سامنے نہیں، اس بارے میں کیس آئیگا تو دیکھا جا ئیگا۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے واضح کیا کہ فوج سے متعلق غلط باتیں کرنے سے امن نہیں آئیگا۔



عدالت کا کام دہشتگردی روکنا نہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں گرفتار لوگوں کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جائے۔ عدالت نے درخواست گزارکے وکیل کو3 اپریل تک ریگولیشن پر تحریری مواد جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے کہا عدالت انتظامیہ کے اختیارات نہیں لے سکتی، ملکی اداروںکی عزت و تکریم ہونی چاہیے۔آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا دہشتگردی ایسا معاملہ نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے، دریں اثنا لاپتہ افرادکی بازیابی کیلیے قائم کمیشن نے سپریم کورٹ میں عبوری رپورٹ جمع کرادی جس میںکہا گیا ہے کہ اب تک لاپتہ افراد کے1011 کیسوں میں سے 316 افراد بازیاب ہوئے۔

378 کیس نمٹا دیے گئے جبکہ 633 افراد اب بھی جبری گمشدہ ہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف پر مشتمل دو رکنی بنچ نے انفرادی کیسزکی سماعت کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے اقدامات اور تفتیش میں پیشرفت نہ ہونے پر برہمی کا اظہارکیااورکہا کہ دو سے تین کیس روزانہ سنے جائینگے۔کمیشن کی عبوری رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں 16 کیس نمٹائے گئے اور بیس باقی ہیں، پنجاب میں 133 کیس نمٹائے گئے جبکہ 148 باقی ہیں۔ سندھ میں 24 مقدمات نمٹائے اور 100 باقی ہیں،خیبر پختونخوا میں 125 مقدمات نمٹائے اور 279 باقی ہیں، بلوچستان میں59 مقدمات نمٹائے اور 48 کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔