فوڈسیکیورٹی پالیسی پرصوبائی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد

2050 تک خوراک کاعدم تحفظ ختم کردیا جائیگا،وفاقی سیکریٹری فوڈسیکیورٹی


Numainda Express March 30, 2013
45اضلاع خوراک کی قلت کاشکارہیں،عرفان الٰہی،ڈاکٹر افتخار نے پالیسی پر بریفنگ دی. فوٹو: ثمر عامر

وفاقی سیکریٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ احمد بخش لہڑی نے کہا ہے کہ ملک میں خوراک کی فراوانی کیلیے پاکستان زرعی تحقیقی کونسل اور دیگر قومی وصوبائی ادارے کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی سے متعارف کرا رہے ہیں۔

اس پالیسی کے تحت 2030 تک خوراک کے عدم تحفظ کی صورتحال کو 50 فیصد کم جبکہ 2050 تک اسے زیرو فیصد لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مقامی ہوٹل میں صوبائی مشاورتی ورکشاپ فوڈ اینڈ نیوٹریشن سیکیورٹی پالیسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ غریب عوام کو خوراک کی فراہمی اور وسائل کے درست استعمال سے متعلق ملک کی تاریخ میں پہلی بار جامع پالیسی تشکیل دی جارہی ہے جس میں وفاق سمیت تمام صوبوں کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کے لیے مشاورتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوراک کی فراہمی سے وفاقی حکومت کی جانب سے زیروہنگر پروگرام سمیت دیگر پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ نے کہا کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی بدولت خوراک کی قلت اور ناقص کوالٹی کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

5

سیکریٹری لائیو اسٹاک عرفان الہی نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے جس میں تمام فصلوں کی کاشت کے لیے موسم انتہائی مناسب ہے، گندم کی وافر مقدار موجود ہونے کے باوجود 45اضلاع میں خوراک کی کمی کا سامنا ہے، مناسب قیمت پر فراہمی، انتظامی امور کی نگرانی اور منڈیوں سے اجارہ داری کے خاتمے کے لیے مناسب پالیسی اپنا ہوگی۔

چیئرمین پاکستان زرعی تحقیقی کونسل ڈاکٹر افتخار احمد نے شرکا کو نیشنل فوڈ اینڈ نیورٹریشن سیکیورٹی پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی اورکہا کہ 2050 تک آبادی میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے خوراک کی پیداوار کے لیے مناسب اقدامات کرنے ہوں گے، وزیراعظم اور قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا سلسلہ مکمل کر کے ایک لائحہ عمل بنایا جائے گا۔