لڑکی کا جنس تبدیلی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع

جنیاتی تبدیلی محسوس کرنے پر ڈاکٹروں نے جنس تبدیلی کے لیے "ری اسائنمنٹ سرجری" تجویز کی ہے، لڑکی کا موقف


ویب ڈیسک March 06, 2018
عدالت تمام اداروں کو نام اور جنس کی تبدیلی کے لیے حکم جاری کرے، عدالت۔ فوٹو:فائل

جنس تبدیلی کی خواہشمند 27 سالہ لڑکی نے قانونی رکاوٹوں سے پریشان ہوکر ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے قانونی رکاوٹوں سے پریشان جنس تبدیلی کی خواہش مند 27 سالہ لڑکی کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری ہیلتھ، سیکرٹری ایجوکیشن اور چیئرمین نادرا کو فریق بنایا گیا ہے جب کہ اس کے ساتھ میڈیکل رپورٹس بھی منسلک کی گئی ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ 13 سال کی عمر میں جنیاتی تبدیلی محسوس کرنے پر ڈاکٹرز سے چیک اپ کرایا جس کے بعد ڈاکٹروں نے جنس تبدیلی کے لیے "ری اسائنمنٹ سرجری" تجویز کی، سرجری کی تجویز کے بعد سے ذہنی اذیت کا شکار ہوں۔ جنس تبدیلی کے لیے سرجری کے اخراجات کا بندوبست کرلیا لیکن اس عمل کے بعد تعلیمی سرٹیفکیٹس اور دیگر دستاویزات پر نام کی تبدیلی میں قانونی رکاوٹیں ہوسکتی ہیں لہذا عدالت تمام اداروں کو نام اور جنس کی تبدیلی کے لیے حکم جاری کرے۔ عدالت نے درخواست گزار کو سننے کے بعد کیس کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی۔