صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ضرورت

خود کش حملہ آور بھی اسی انٹیلی جنس کے باعث اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے گرفتار کیے جاسکتے ہیں۔


Editorial April 05, 2013
خود کش حملہ آور بھی اسی انٹیلی جنس کے باعث اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے گرفتار کیے جاسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی کے حساس علاقے کورنگی نمبر 5 میں رینجرز ہیڈ کوارٹر کے مرکزی دروازے کے سامنے منی ٹرک کے نیچے زمین میں نصب شدہ بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں رینجرز کے سب انسپکٹر سمیت4 اہلکار جاں بحق جب کہ5 رینجرز اہلکاروں سمیت15افراد زخمی ہو گئے ۔ دھماکے کے بعد رینجرز ہیڈ کوارٹر کے اندر سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی ، ڈیڑھ کلو گرام وزنی بم لوہے کے کنٹینر میں رکھ کر سیمنٹ کا بلاک بنا کر تیار کیا گیا اور اسے زمین میں نصب کردیا گیا تھا۔

رینجرز پر دہشت گردوں کا حملہ ارباب اختیار کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔اس سانحہ کا افسوسناک پہلو بھی کم و بیش وہی ہے کہ قاتلوں کی شناخت نہیں ہوپائی اور ان کی فوری گرفتاری سے معذوری پولیس اور رینجرز حکام کی بدترین ناکامی بتائی جاتی ہے۔ یہ ناکامی ہی در اصل سپریم کورٹ کے اضطراب مسلسل کا باعث بنی ہوئی ہے اور اہل وطن بھی اس سوال سے خاصے پریشان ہیں کہ دہشت گردی کا نیٹ ورک کس طرح اتنی بے رحمی کے ساتھ شہریوں کو موت کے گھاٹ اتاررہا ہے حالانکہ دنیا بھر میں دہشت گردی مخالف کارروائیوں اور سڑیٹجی میں جدید ترین گاڑیوں، اسلحہ اور اعلیٰ تربیت یافتہ فورسز کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ گینگز کے وار لارڈز اور جنگجو عناصر کو قابو کرنے کے لیے چوکس اور ذہین انٹیلی جنس افسران کی فرض شناسی ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔

خود کش حملہ آور بھی اسی انٹیلی جنس کے باعث اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے گرفتار کیے جاسکتے ہیں۔ اس وقت دہشت گردی کے کئی پہلو ہیں،فاٹا اور قبائلی علاقوں کے شہر اور کوہساروں میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے، جنوبی اور شمالی وزیرستان مخدوش علاقے ہیں جہاں ریاستی رٹ کھلے بندوں مسترد کی گئی ہے ، بلوچستان میں گوریلا وار جیسی گھمبیر صورتحال ہے، پنجاب میں لشکر جھنگوی اور دیگر کالعدم تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیاں ملکی سالمیت کے لیے وجہ تشویش بنی ہوئی ہیں ،اور آجکل کراچی کو بھی وزیرستان سے تشبیہہ دی جاتی ہے کیونکہ یہاں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگزکے بعد اب طالبان کی آمد کا طبل بج چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کراچی بدامنی کیس میں ملوث ماسٹر مائنڈز اب تک کیوں حراست میں نہیں لیے جاسکے یاوہ کون سے اقدامات ہیں جو خیبرپختونخوا، پنجاب ، بلوچستان اور سندھ کے حساس اور ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں محصور و یرغمال کراچی میں لیے جائیں تو امن وامان کی صورتحال بہتر بنائی جاسکتی ہے۔اس لیے کہ جب مسئلہ دہشت گردوں کے وفاق کی جانب بڑھتے مذموم قدموں ، قانون شکن عناصر کے خاتمہ ،ریاستی حاکمیت اور عوام کی زندگیوں کے تحفظ کا ہو تو حکومت ہر وہ اقدام کرے جس سے دہشت گردی کی کمر حقیقت میںٹوٹ جائے تاکہ عوام سکون کا سانس لے سکیں ۔

نگراں حکمران اس امر کو پیش نظر رکھیں کہ ملک دشمن قوتوں کا طرز عمل بربریت پر مبنی ہے، یہ فسطائی تنظیمیں جمہوریت پر شب خون مارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدینا چاہتیں، وہ الیکشن کے پروسیس کو درہم برہم کرنے کی تاک میں ہیں ،اس لیے تمام سیکیورٹی فورسز منظم اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ ان پر ٹوٹ پڑیں، دشمن اگر یلغار کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست ہوں تو ریاستی مشینری کی طرف سے جوابی کارروائی اس سے زیادہ شدید ہو ۔اس لیے لازم ہے کہ طالبان کی پر اسرار مگر یقینی موجودگی اور اس کے ہولناک بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کی روک تھام کے لیے ارباب اختیار اور سلامتی کے امور پر مامور حکام موثر اور نتیجہ خیزحکمت عملی تیار کریں۔

پاکستان کی بقا،اور ریاستی رٹ کی بحالی جمہوری عمل کے تسلسل ، آیندہ انتخابات کے شفاف اور یقینی انعقاد میں مضمر ہے جس کے لیے عدلیہ،الیکشن کمیشن اور چوتھے ستون کی کمٹمنٹ قطعی واضح ہے جب کہ بعض داخلی و خارجی پاکستان دشمن قوتیں نہ صرف الیکشن کو سبوتاژ کرنے پر تلی ہوئی ہیں بلکہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ملک کے تمام شہروں اور مختلف حساس علاقوں میں مضبوط کرنے کی کوششیں کررہی ہیں تاہم دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جس متفقہ، مربوط اور غیر متزلزل حکمت عملی اور میکنزم کی ضرورت ہے اس کے فقدان کی گونج صرف میڈیا تک محدود نہیں بلکہ زمینی حقائق اور عدلیہ کے سامنے لائے جانے والے کیسز اور ملک کے طول وعرض میں بربریت اور قانون شکنی کے ہولناک اوربہیمانہ واقعات کا تفتیش و پراسیکیوشن کے نقطہ نظر سے درست فالو اپ نہیں ہورہا چنانچہ ضرورت یہ بھی ہے کہ پولیس اور دیگر ادارے یک طرفہ طور پر میڈیا کے عتاب میں نہیں آنے چاہئیں۔

دہشت گردی نے انتہائی پیچیدہ صورتحال پیدا کی ہے جس کا مقابلہ قوم کو مل کرکرنا چاہیے۔پولیس کا مورال بلند کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ روزسپریم کورٹ میں سانحہ جوزف کالونی کیس میں پنجاب پولیس نے اپنی نااہلی تسلیم کرتے ہوئے ایک ایس پی سمیت تین اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی رپورٹ جمع کرادی جس پرعدالت نے ازخودنوٹس نمٹا دیا، لاہور میں جوزف کالونی میں مسیحی برداری کے گھر جلائے جانے کے بارے ازخود نوٹس کے مقدمے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ پنجاب پولیس حکام نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے ایک ایس پی سمیت تین اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ جمع کرا دی۔

ادھرکراچی میں ''نو گوایریاز''کے حوالے سے رینجرز اور پولیس کے موقف میںتضاد برقرار ہے، سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس میں رینجرز کی جانب سے جو رپورٹ جمع کرائی گئی ہے اس میں رینجرز نے تسلیم کیا ہے کہ کراچی میں تاحال''نو گوایریاز''موجود ہیں جب کہ پولیس نے ''نو گوایریاز'' کے خاتمے کا دعویٰ کیا جب کہ عدالت عظمیٰ نے پولیس کی رپورٹ کو کسی ایک فرد کے زور قلم کا نتیجہ گردانتے ہوئے حکم دیا کہ کراچی کے 112 تھانوں کی رپورٹ آدھے گھنٹہ میں پیش کی جائے۔ پولیس اور حساس اداروں نے سابقہ ایس ایچ او چاکیواڑہ اور 3 پولیس افسران سمیت 7 افراد کو گینگ وار کے حوالے سے تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا۔

ایکسپریس کے نمایندہ نے رینجرز کی طرف سے سیاسی جماعتوں کو کراچی بدامنی میں ملوث قرار دینے پر ایک فکر انگیز جائزہ رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ کراچی میں سیاسی جماعتوں کے منظم مسلح گروہ ہیں جوٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں ملوث ہیں ان جماعتوں میںایم کیوایم ، عوامی نیشنل پارٹی،سنی تحریک اور قوم پرست جماعتیں جسقم اور جے ایس ایس ایم شامل ہیں ، جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم (جے آئی ٹی )نے ان جماعتوں کے ٹارگٹ کلرزکو تفتیش کے بعد مجرم قراردیا ہے ، رینجرز نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے استدعا کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو دہشت گردوں کی سرپرستی سے روکا جائے،سزایافتہ مجرموں کی سزائوں پر فوری عمل درآمدکرایا جائے۔

وزارت داخلہ نے اسلحہ لائسنسوں کے اجراء پرپابندی عائدکردی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ نے31 مارچ 2013ء سے ممنوعہ غیرممنوعہ پی بی این پی بی کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس کے اجراء کے حوالے سے پارلیمنٹیرینزاورعام شہریوںکومنظوری اورزیرالتواء ہدایات کے عمل کوروک دیا ہے ۔توجہ طلب خبریں یہ بھی ہیں کہ جنوبی وزیرستان کے مقامی طالبان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 41 کے تمام امیدواروں کو اپنے ہیڈکوارٹرز میں طلب کرلیا۔

تمام امیدواروں کو آگاہ کیا گیا کہ وہ مقامی طالبان کے کمانڈر عائداللہ کے دفترمیں حاضر ہوں کیونکہ ان سے ضروری امور پر بات چیت کرنی ہے جب کہ تحریک طالبان نے کہا ہے کہ پشاورکے علاقے بڈھ بیر میں شیخ محمدی گرڈ اسٹیشن پرحملہ ہم نے نہیں کیا، یہ کسی اورکی گروپ کی کارروائی ہوسکتی ہے جب کہ آئی ایس پی آر کی مطابق گرڈ سٹیشن پرحملہ طالبان نے ہی کیاہے۔ بلاشبہ وقت دہشت گردی کے خاتمہ کی ضرورت کا احساس دلا رہا ہے ۔پاکستان کو حصار میں لینے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ میڈیا محتاط رہے اور ان سازشوں کے تانے بانے بکھیر کر رکھ دے۔ امتحان کی گھڑی ہے،امید کی جانی چاہیے کہ حکومت صورتحال کو کنٹرول کرنے اور قیام امن کے لیے آخری حدوں تک جائے گی۔