سینیٹ میں تمام جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن اپنی حدود سے تجاوز کررہا ہے۔
اسے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار کے تعین کا کوئی اختیار نہیں، انتخابی عمل کی نگرانی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے جس سے دستبردار نہیں ہوں گے جبکہ ایم کیوایم نے آئین کے آرٹیکل 63 میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کردیاہے ، (ن) لیگ اور جے یوآئی کی مخالفت پر چیئرمین نے بل مزید غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔متحدہ کے ارکان نے اپنے امیدوار وکارکنوں کے قتل اور کراچی کی صورتحال پر واک آؤٹ بھی کیا ۔ پیر کو ایک ماہ کے وقفے کے بعد اجلاس چیئرمین نیئربخاری کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ، نگراں وفاقی وزیر احمر بلال صوفی اوروزیر آئی ٹی ڈاکٹر ثانیہ نشترنے بھی شرکت کی۔قائد ایوان جہانگیر بدر نے کہاکہ جس حکومت کے دور میں انہیںقائد ایوان کی ذمہ داری دی گئی تھی،وہ ختم ہوچکی ہے ۔
وہ عہدے سے خودکو الگ ہورہے ہیں، نگران وزیراعظم جسے چاہیںقائد ایوان بنائیں،قائدحزب اختلاف اسحق ڈارنے جہانگیر بدرکی خدمات کی تعریف کی اورتجویز دی کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کو قانونی تحفظ دینے کیلئے نگران حکومت فوری آرڈیننس جاری کرے۔ اگر ووٹرز کو ٹرانسپورٹ کی فراہمی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن نے اپنے پاس رکھی تو ٹرن آؤٹ خطرناک حد تک کم ہوگا۔ اسحق ڈار نے کہا کہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے مخصوص نشستوں کی خواتین امیدواروں سے پوچھا گیا کہ آپ کے کتنے شوہر ہیں، اس نوعیت کے سوالات نے پوری قوم کو شرمندہ کیا۔ الیکشن کمیشن نے سینیٹ کی کمیٹی کو جو خط لکھا ہے ۔
اس کی مذمت کرتے ہیں ، ہم 25 سال سے اس عمارت میں دھکے کھا رہے ہیں ، ہمیں پتہ ہے کہ قانون کیا ہے ۔ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آئینی باڈی ہے لیکن اسے پارلیمنٹ کے اختیارات محدود کرنیکا اختیار نہیں۔ اے این پی کے رکن حاجی عدیل نے کہا کہ ہمارے امیدواروں اور رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لی گئی ہے ، انتخابی مہم کے دوران ہمارا کوئی امیدوار مارا گیا تو اس کی ذمہ داری چیف الیکشن کمشنر اورحکومت پر ہو گی۔ پیپلزپارٹی کے رکن فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ نگران حکومت اپنی مدت میں توسیع یا انتخابات کے التوا کی حمایت نہیں کرے گی۔

جے یوآئی کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی حدود سے آگے چلاگیا ہے، 62اور 63 کے باوجود کرپشن کے بادشاہوں کے کاغذات منٹوں میں منظور جبکہ میرے اور جمشید دستی جیسے لوگ پکڑے گئے ۔ ایم کیوایم کے رکن طاہر مشہدی نے کہا کہ حیدرآباد میں ہمارا امیدوار بیدردی سے مارا گیا، روزانہ دو تین مرکزی کارکن قتل ہورہے ہیں لیکن نگران حکومت خاموش ہے، رینجرز دہشت گردوں کے ٹھکانوں کیخلاف آپریشن کے بجائے پرامن علاقوں میں لوگوں کو تنگ کررہی ہے ۔
آئین میں پہلے مردم شماری اور پھر حلقہ بندیاں کرنے کا کہا گیا لیکن کراچی میں پہلے حلقہ بندیاں کی جا رہی ہیں،آئی این پی کے مطابق امن وامان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طاہر مشہدی آبدیدہ ہوگئے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی میں ہم متاثرہ فریق ہیں ، ہمیں سنا جائے ۔ (ق) لیگ کے رکن مشاہد حسین نے کہا کہ میں ابھی کراچی سے آرہا ہوں وہاں کے حالات بہت تشویشناک ہیں۔ ایم کیوایم کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا تاہم نگران وزیر ثانیہ نشتر انھیں مناکر واپس لے آئیں اور یقین دہانی کرائی کہ وہ سکیورٹی کے حوالے سے ایوان کے تحفظات سے وزیراعظم کو آگاہ کریں گی۔
جبکہ چیئرمین نے ہدایت کی وزیر قانون ارکان کے اٹھائے گئے نکات پر الیکشن کمیشن سے بات کریں۔ دریں اثناء ایم کیو ایم کے رکن طاہر مشہدی نے آئین کے آرٹیکل 63 میںترمیم کا بل ایوان میں پیش کردیا ، (ن) لیگ اور جے یوآئی کے ارکان کی مخالفت پر چیئرمین نے بل مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا ۔بعدازاں اجلاس آج منگل تک ملتوی کردیا گیا، طاہر مشہدی کی تحریک پر ایوان میں امن وامان کی صورتحال پر بحث ہوگی۔ ایوان میں سابق سینیٹر امان روم اور سابق رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔ قبل ازیں بزنس ایڈوائزی کمیٹی کے اجلاس میں ایوان بالا کا اجلاس 19 اپریل تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔